حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کواجازت لے دو۔ وہ اندر گیا، پھر اس نے باہر آکر کہا: میں نے حضورﷺ سے آپ کا ذکر کیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں لوٹنے لگا تو غلام نے مجھے بلایا اور کہا: آپ اندر چلے جائیں حضور ﷺ نے اجازت دے دی ہے۔ میں نے اندر جاکر حضورﷺ کو سلام کیا۔ آپ ایک خالی بوریے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور بوریے کے نشانات آپ کے جسمِ اطہر پر اُبھرے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیاـ: یا رسول اﷲ! آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضور ﷺ نے میری طرف سر اُٹھا کر فرمایا: نہیں۔ میں نے (خوشی کی وجہ سے) کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ یا رسول اﷲ! آپ نے ہمیں دیکھا ہوگا کہ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے، جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے سیکھنے لگیں۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ آگے سے مجھے جواب دینے لگی۔ میں اس کے جواب دینے پر بڑا حیران ہوا۔ اس نے کہا: آپ میرے جواب دینے پر کیا حیران ہو رہے ہیں؟ حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات حضورﷺکو جواب دیتی ہیں، بلکہ سارا دن رات تک حضورﷺ کو چھوڑے رکھتی ہیں۔ میں نے کہا: ان میں سے جو بھی ایسا کرے گی وہ نامراد ہوگی اور گھاٹے میں رہے گی۔ اگر اﷲ کے رسول کے ناراض ہونے کی وجہ سے اﷲ ناراض ہو گئے تو وہ تو ہلاک وبرباد ہو جائے گی۔ اس پر حضورﷺ مسکرانے لگے۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! پھر میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے اسے کہا: تم اپنی پڑوسن (حضرت عائشہؓ) سے دھوکہ نہ کھانا وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور حضورﷺ کو اس سے تم سے زیادہ محبت ہے۔ حضور ﷺ دوبارہ مسکرائے۔میں نے کہا: یا رسول اﷲ! جی لگانے کی اور بات کروں؟ آپ نے فرمایا: کرو۔ پھر میں بیٹھ گیا اور سر اُٹھا کر حضورﷺ کے گھر پر نظر ڈالی تو اﷲ کی قسم! مجھے صرف تین کھالیں بغیر رنگی ہوئی نظر آئیں۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! آپ دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کی اُمت پر وسعت فرما دے۔ اﷲ تعالیٰ نے روم اور فارس پر وسعت کر رکھی ہے حالاںکہ وہ اﷲ کی عبادت نہیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! کیا تم ابھی تک شک میں ہو؟ ان لوگوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! میرے لیے استغفار فرما دیں۔ چوںکہ حضورﷺ کو اپنی ازواجِ مطہّرات پر زیادہ غصہ آگیا تھا اس وجہ سے آپ نے قسم کھالی تھی کہ ایک مہینہ تک ان کے پاس نہیں جائیں گے۔ آخر اﷲ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو متنبہ فرمایا۔1 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطّابؓ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار فرمالی تو میں مسجد میں گیا اور دیکھا کہ صحابہ سوچ میں پڑے ہوئے ہیں اور کنکریاں اُلٹ پلٹ رہے ہیں اور کہہ رہے