حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گیا اور میں نے کہا: کیا تم رسول اﷲ ﷺکو جواب دے دیتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: تم میں کچھ عورتیں حضورﷺ کو سارا دن رات تک چھوڑے رکھتی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔میں نے کہا: تم میں سے جو بھی ایسا کرے گی وہ تو اپنا بڑا نقصان کرے گی۔ اور اگر اﷲ کے رسولﷺ کے ناراض ہونے کی وجہ سے اﷲ ناراض ہو گئے تو پھر تو وہ ہلاک وبرباد ہو جائے گی، اس لیے آیندہ کبھی حضورﷺ کو آگے سے جواب نہ دینا اور ان سے کچھ نہ مانگنا اور مجھ سے جو چاہے مانگ لینا۔ اور تم اپنی پڑوسن یعنی حضرت عائشہؓ سے دھوکہ نہ کھائو (کہ وہ حضورﷺ کو آگے سے جواب دیتی ہے اور حضورﷺ سے ناراض ہو جاتی ہے۔ وہ ایسا کر سکتی ہے) کیوںکہ وہ تم سے زیادہ خوب صورت ہے اور حضورﷺ کو اس سے تم سے زیادہ محبت ہے (تم ایسا نہ کرو)۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم دونوں باری باری حضورﷺ کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا اور سارے دن میں جو وحی نازل ہوتی یا اور کوئی بات پیش آتی وہ شام کو آکر مجھے بتا دیتا، اور ایک دن میں جاتا اور شام کو واپس آکر سب کچھ اسے بتا دیتا۔ ان دنوں ہمارے ہاں اس کا بہت چرچا تھا کہ قبیلہ غسان ہم پر چڑھائی کر نے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔چناںچہ ایک دن میرا یہ پڑوسی حضورﷺ کی خدمت میں گیا اور عشاء میں میرے پاس واپس آیا۔ اس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی۔ میں باہر آیا اس نے کہا: ایک بہت بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا: کیا ہوا؟ کیا غسان نے چڑھائی کر دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا اور زیادہ پریشان کن حادثہ پیش آیا ہے۔ حضورﷺ نے اپنی ازواجِ مطہّرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ تو نامراد ہوگئی اور گھاٹے میں پڑگئی، اور مجھے تو پہلے ہی خطرہ تھا کہ ایسا ہو جائے گا ۔ صبح کی نماز پڑھ کر میں نے کپڑے پہنے اور مدینہ گیا، وہاں سیدھا حفصہ کے ہاں گیا۔ وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا حضورﷺ نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے، البتہ حضورﷺ ہم سے الگ ہو کر اس بالاخانہ میں تشریف فرما ہیں۔ پھر میں آپ کے سیاہ غلام کے پاس آیا اور اس سے کہا: عمر کو اندر آنے کی اجازت لے دو۔ وہ غلام اندر گیا اور باہر آیا، پھر اس نے کہا: میں نے حضورﷺ سے آپ کا ذکر کیا لیکن حضورﷺ خاموش رہے۔ پھر میں (مسجد) چلا گیا۔ جب میں منبر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ رو رہے ہیں۔میں کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر جب میری بے چینی بڑھی تو میں نے جا کر پھر اس غلام سے کہا: عمر کو اجازت لے دو۔ و ہ غلام اندرگیا، پھر اس نے باہر آکر کہا کہ میں نے حضورﷺ سے آ پ کا ذکر کیا لیکن حضورﷺ خاموش رہے۔ میں پھر منبر کے پاس جا کر بیٹھ گیا، لیکن بیٹھا نہ گیا۔ میں نے جا کر پھر غلام سے کہا: عمر