حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہی کہہ دینے لگی تھی لیکن میں نے خود کو روکا۔ جب حضورﷺ میرے پاس پہنچ گئے تو میں نے کہا: یا رسول اﷲ! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تو پھر یہ بو کیسی ہے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔ میں نے کہا: شاید اس شہد کی مکھی نے عُرفُط درخت کا رس چوسا ہوگا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی یہی کہا، جب حضورﷺ حضرت صفیہ ؓ کے ہاں گئے تو انھوں نے بھی یہی کہا۔ پھر حضورﷺ جب حضرت حفصہ کے ہاں گئے تو انھوں نے حضورﷺ سے کہا: یا رسول اﷲ! کیا میں آپ کو اس شہد میں سے پلائوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت سودہ نے کہا: اﷲ کی قسم! ہم نے حضورﷺ کو شہد پینے سے روکا ہے۔ میں نے ان سے کہا: آپ خاموش رہیں۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: میرے دل میں بڑی آرزو تھی کہ میں حضرت عمر ؓ سے حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے {اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا} فرمایا ہے، لیکن بہت عرصہ تک مجھے پوچھنے کا موقع نہ ملا۔ آخر ایک مرتبہ حضرت عمر حج پر تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ حج پر گیا۔ ہم لوگ سفر کر رہے تھے کہ حضرت عمر ضرورت سے راستے سے ایک طرف کو چلے گئے، میں بھی پانی کا برتن لے کر ان کے ساتھ ہو لیا۔ آپ ضرورت سے فارغ ہو کر میرے پاس واپس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے {اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا} فرمایا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: اے ابنِ عباس ! تم پر تعجب ہے ( کہ علم میں اتنے مشہور ہو اور پھر تمھیں معلوم نہیں کہ یہ عورتیںکون ہیں؟)
حضرت زُہری کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کو اس سوال پر تعجب تو ہوا، لیکن پھر انھوں نے سارا قصہ سنایا کچھ نہیں چھپایا۔ اور فرمایا: وہ دونوں حفصہ اور عائشہ ہیں۔ پھر تفصیل سے سارا قصہ سنانے لگے اور فرمایا: ہم قریش قبیلہ والے عورتوں پر غالب تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو دیکھا کہ یہاں کے مردوں پر عورتیں غالب ہیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے سیکھنے لگیں۔ میرا گھر عوالی میں قبیلہ بنو اُمیہ بن زید میں تھا۔ میں ایک دن اپنی بیوی پر ذرا ناراض ہوا تو وہ آگے سے جواب دینے لگی، میں اس کے یوں جواب دینے سے بڑا حیران ہوا میرے لیے بالکل نئی بات تھی۔ وہ کہنے لگی: آپ میرے جواب دینے سے کیوں حیران ہو رہے ہیں؟ وہ تو اﷲ کی قسم! حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں، بلکہ بعض تو ناراض ہو کر حضورﷺ کو سارا دن رات تک چھوڑے رکھتی ہیں۔ میں یہ سن کر گھر سے چلا اور حفصہ کے پاس