حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
چلیں۔ چناںچہ ہم ان اَنصاریوں کے ارادے سے چل پڑے۔ راستہ میں ہمیں دو نیک آدمی (حضرت عُویم اَنصاری اورحضرت مَعْن ؓ) ملے اور اَنصار جو کر رہے تھے وہ ان دونوں نے ہمیں بتایا اور ہم سے پوچھاکہ اے جماعتِ مہاجرین! تمہارا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہم اپنے اَنصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ ان دونوںنے کہا: ان اَنصار کے پاس جانا آپ لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اے جماعتِ مہاجرین! تم اپنے معاملہ کا خود فیصلہ کرلو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ چناںچہ ہم گئے اورہم ان کے پاس پہنچے۔ وہ سب سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع تھے اور ان کے درمیان ایک آدمی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ان لوگوںنے کہا: یہ سعد بن عبادہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کوکیا ہوا؟ انھوں نے بتایا: یہ بیمار ہیں۔ جب ہم بیٹھ گئے تو ان میں سے ایک صاحب بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد کہا: اَما بعد! ہم اللہ (کے دین) کے اَنصار ومددگار اور اِسلام کا لشکر ہیں۔ اور اے جماعتِ مہاجرین! آپ لوگ ہمارے نبی کی جماعت ہیں، اور آپ لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمیں نظر انداز کرناچاہتے ہیں اور امرِخلافت سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ صاحب خاموش ہوگئے تو میں نے بات کرنی چاہی اور میں نے ایک مضمون (اپنے ذہن میں) تیار کر رکھا تھا جو مجھے بہت پسند تھا اور حضرت ابو بکر کے سامنے میں اسے کہنا چاہتا تھا اور میں اس میں نرمی اختیار کیے ہوئے تھا اور میں غصہ والی باتیں نہیں کہنا چاہتا تھا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اے عمر! آرام سے بیٹھے رہو۔ میں نے حضرت ابوبکر کو ناراض کرنا پسند نہ کیا (اس لیے اپنی بات کہنے کے لیے کھڑانہ ہوا)۔ چناںچہ انھوں نے گفتگو فرمائی اور وہ مجھ سے زیادہ دانا اور زیادہ باوقار تھے۔ اور اللہ کی قسم! جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے اپنے مضمون میں جتنی باتیں سوچی تھیں وہ سب باتیں انھوں نے اپنے برجستہ بیان میں کہہ دیں، یا تو وہی باتیں کہیں یا ان سے بہتر کہیں۔ چناںچہ انھوں نے کہا: اَما بعد! تم نے اپنے بارے میں جس خیر کا ذکر کیا تم لوگ واقعی اس کے اہل ہو، لیکن تمام عرب کے لوگ امرِ خلافت کا حق دار صرف قبیلۂ قریش کو ہی سمجھتے ہیں۔ اور قبیلۂ قریش سارے عرب میں نسب اور شہرت کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔ اور مجھے تمہارے خلیفہ بننے کے لیے ان دو آدمیوںمیں سے ایک آدمی پسند ہے۔ دونوں میں جس سے چاہو بیعت ہو جائو۔ اور یہ کہہ کرحضرت ابو بکرنے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ کا۔ اور اس ایک بات کے علاوہ حضرت ابو بکر کی اور کوئی بات مجھے ناگوار نہ گزری۔ اور اللہ کی قسم! مجھے آگے بڑھا کر بغیر کسی گناہ کے میری گردن اُڑا دی جائے یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ حضرت ابو بکر کے ہوتے ہوئے میں لوگوں کا امیر بن جائوں۔