حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس بات کو بیان کرے۔ اور جو میری بات کو اچھی طرح نہ سمجھے تو میں اسے اس کی اجازت نہیں دیتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں غلط بیا نی سے کام لے۔ (سب کو چوکنا کرنے کے لیے حضرت عمر نے یہ بات پہلے فرما دی) اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجااور اُن پر کتاب کو نازل فرمایا۔ اور جو کتاب حضور ﷺ پر ناز ل ہوئی اس میں رجم (یعنی زانی کو سنگسار کرنے) کی آیت بھی تھی۔ (اور وہ یہ آیت تھی: ’’ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا‘‘۔اس آیت کے الفاظ تو منسوخ ہو چکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے) ہم نے اس آیت کو پڑھا اور اسے یاد کیا اور اسے اچھی طرح سمجھا۔اور حضور ﷺ نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ طویل زمانہ گزرنے پر کوئی آدمی یوں کہے کہ ہم تو رجم کی آیت کو کتابُ اللہ میں نہیں پاتے ہیں، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فرض کو چھوڑ کر وہ لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔ زانی کو رجم کرنے کا حکم اللہ کی کتاب میں تھا۔ جو مُحصَن ( شادی شدہ) مرد یا عورت زنا کریں گے اور زنا کے گواہ پائے جائیں گے، یا زنا سے حاملہ عورت زنا کا اقرار کرلے گی، یا کوئی مرد یا عورت ویسے ہی زنا کا اقرار کریں گے تو اسے رجم کرنا شرعاً لازم ہو گا۔ اور سنو! ہم (قرآن میں) یہ آیت بھی پڑھا کرتے تھے: ’’لَا تَرْغَبُوْا عَنْ اٰبَائِکُمْ، فإِنَّ کُفْرًا بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوْا عَنْ اٰبَائِکُمْ‘‘۔ اپنے باپ دادے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف نسب کی نسبت نہ کرو، کیوںکہ اپنے باپ دادا کے نسب کو چھوڑنا کفر ہے۔ یعنی کفرانِ نعمت ہے۔ (اب اس آیت کے الفاظ بھی منسوخ ہو چکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے) اور سنو! حضور ﷺ نے فرمایاہے کہ میری تعریف میںایسا مبالغہ نہ کرو جیسے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا۔ میں تو بس ایک بندہ ہی ہوں، لہٰذاتم (میرے بارے) میں یہ کہو کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں کوئی آدمی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر حضرت عمرمر گئے تو میں فلاں سے بیعت کرلوں گا۔ اسے اس بات سے دھوکہ نہیں لگنا چاہیے کہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیعت اچانک ہوئی تھی اور وہ پوری بھی ہو گئی تھی۔ سنو! وہ بیعت واقعی ایسے ہی (جلدی میں) ہوئی تھی، لیکن اس بیعت کے (جلدی میں ہونے کے) شر سے اللہ تعالیٰ نے (ساری اُمت کو) بچا لیا۔ اور آج تم میں حضرت ابو بکر جیسا کوئی نہیں ہے جس کی فضیلت کے سب قائل ہوں اور قریب وبعید سب اس کی موافقت کرلیں۔ جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت کا ہمارا قصہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت زبیر ؓ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ حضور ﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ کے گھرمیں پیچھے رہ گئے، اور اُدھر تمام اَنصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے، اور مہاجرین حضرت ابو بکر ؓ کے پاس جمع ہوگئے۔ میں نے اُن سے کہا: اے ابو بکر! آئیں ہم اپنے اَنصاری بھائیوں کے پاس