حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کنارے پر) کھڑے ہو کر فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے ربّ کے وعدے کو سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے ربّ نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچا پایا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مردہ لوگوں سے بات کر رہے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اب ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ ان کے ربّ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا۔ جب حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ ؓ نے دیکھا کہ ان کے والد کو گھسیٹ کر کنوئیں میں ڈالا جا رہا ہے تو حضورﷺ نے ان کے چہرے میں ناگواری کے اثرات محسوس کیے اور فرمایا: اے ابو حذیفہ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اپنے والد کے متعلق جو منظر دیکھا ہے اس سے تمھیں ناگواری ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ سردار تھا، مجھے اُمید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور اسلام کی ہدایت دیں گے، لیکن جب اس کا انجام یہ ہوا (کہ کفر پر ذلت کے ساتھ مارا گیا) تو مجھے اس کا رنج ہو رہا ہے۔ حضورﷺ نے حضرت ابو حذیفہ ؓ کے لیے دعائے خیر فرمائی۔1 حضرت ابو الزناد ؓکہتے ہیں: حضرت ابو حذیفہ ؓ جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے والد عتبہ کو مقابلہ میں لڑنے کی دعوت دی تھی ۔ آگے ان اشعا ر کا تذکرہ کیا ہے جو اُن کی بہن حضرت ہند بنتِ عتبہؓ نے اس بارے میں کہے تھے۔2 بنو عبد الدار قبیلہ کے حضرت نُبیَہ بن وہب ؓ فرماتے ہیں: جب حضورِ اَقدس ﷺ بدر کے قیدیوں کو لے کر آئے اور انھیں اپنے صحابہؓ میں تقسیم کر دیا تو فرمایا: میں تمھیں پُر زور تاکید کرتا ہوں کہ ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے سگے بھائی ابو عزیز بن عمیر بن ہا شم بھی قیدیوں میں تھے۔ حضرت ابو عزیز ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی مجھے قید کر رہے تھے کہ اتنے میں میرے بھائی مصعب بن عمیر میرے پاس سے گزرے تو اس انصاری سے کہنے لگے: دونوں ہاتھوں سے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنا، کیوںکہ اس کی ماں بہت مال دار ہے وہ تمھیں اس کے فدیہ میں خوب دے گی۔ حضرت ابو عزیز کہتے ہیں: صحابہ جب مجھے بدر سے لے کر چلے تو میں اَنصار کی ایک جماعت میں تھا۔ جب بھی وہ دن کو یا رات کو کھانا اپنے سامنے رکھتے تو روٹی مجھے کھلا دیتے اور خود کھجو ر کھا لیتے، کیوںکہ حضورﷺ نے انھیں ہمارے بارے میں تاکید فرما رکھی تھی۔ ان میں سے جسے بھی روٹی کا ٹکڑا ملتا وہ مجھے دے دیتا۔ مجھے شرم آجاتی اور وہ ٹکڑا واپس کر دیتا، لیکن وہ انصاری اسے ہاتھ لگائے بغیر پھر مجھے واپس کر دیتا۔ حضرت ابو الیسر ؓ نے حضرت ابو عزیز کو قید کیا تھا۔ جب ان سے حضرت مصعب نے وہ با ت کہی تھی (کہ اسے مضبوط پکڑو اس کی ماں بہت مال دار ہے) تو حضرت مصعب سے حضرت ابو عزیز نے کہا تھا: آپ (بھائی ہو کر) میرے بارے میں یہ تاکیدکر رہے ہیں؟ تو حضرت مصعب ؓ نے ان کو کہا: یہ (انصاری حضرت ابو الیسر) میرے بھائی ہیں، تم نہیں ہو۔ حضرت