حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کے بدلہ میں کمی کو برا نہ سمجھتا تو میں بھی تمہارے ساتھ اس زندگی کے مزوں میں ضرور شریک ہوجا تا۔2
حضرت سالم بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ فرمایا کرتے تھے: اللہ کی قسم! ہمیں اس دنیا کی لذتوں کی کو ئی پروا نہیں ہے۔ ہمارے کہنے پر لذتوں کے یہ سامان تیار ہوسکتے ہیں: جو ان بکروں کے بال صاف کر کے اُن کو بھون لیا جا ئے اور میدے کی عمدہ روٹیاں پکالی جائیں اور ڈول میںکشمش کو پانی ڈال کر اتنی دیر رکھا جائے کہ چکور کی آنکھ جیسے رنگ کا صاف ستھرا مشروب تیار ہوجا ئے، اور پھر ہم ان تمام چیزوں کو کھا پی جائیں۔ ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، لیکن اس وجہ سے نہیں کر تے ہیںکہ ہم چا ہتے ہیںکہ ہما ری نیکیوں کا بدلہ آخرت میں ملے یہاں نہ ملے، کیوںکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سن رکھا ہے: {اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا}۔ (تر جمہ گزر چکا)1
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں: میں اہلِ بصرہ کے وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آیا۔ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ (ہم نے دیکھا کہ) اُن کے لیے روزانہ ایک روٹی توڑ کر لائی جاتی ہے اور وہ اسے کبھی گھی سے، کبھی تیل سے اور کبھی دودھ سے کھا لیتے ہیں۔ کبھی دھوپ میں خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے بھی لائے جاتے جو پانی میں اُبلے ہوئے ہوتے تھے۔ کبھی ہم نے تازہ گوشت بھی ان کے سامنے دیکھا، لیکن بہت کم۔ (وہ ہمیں یہی کھانے کھلایاکرتے تھے۔ تو) ایک دن حضرت عمر نے ہم سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لو گ میرے کھانے کو گھٹیا سمجھتے ہو اور اچھا نہیں سمجھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر میں چاہتا تو میں تم سب سے زیادہ عمدہ کھانے والا اور تم سب سے زیادہ ناز ونعمت کی زندگی والا ہوتا۔ غور سے سنو! اللہ کی قسم! میں اُونٹ کے سینے اور کوہان کے گوشت (ان دو جگہوں کا گوشت سب سے عمدہ شمار ہوتا ہے) سے بھنے ہوئے گوشت سے چپاتیوں اور رائی کی چٹنی سے ناواقف نہیں ہوں، لیکن (میں انھیں قصداً استعما ل نہیں کرتا، کیوںکہ ) میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنا ہے کہ وہ ایک قوم کو اُن کے کیے ہوئے ایک غلط کام پر عار دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
{اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا}2
تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے اور ان کو خوب برت چکے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر تم لو گ امیر المؤمنین سے بات کرلو کہ وہ تمہارے لیے بیت المال سے کچھ کھانا مقرر کر دیں جسے تم کھا لیا کرو تو یہ بہتر ہوگا۔ چناںچہ ان لوگوں نے حضرت عمر سے بات کی۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم لو گ اپنے لیے وہ کھانا پسند نہیں کرتے جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں؟ تو اُن لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! مدینہ منوّرہ ایسا شہر ہے جہا ں (ہمارے لیے) زندگی گزارنا بڑا مشکل کام ہے، اور آپ کا کھانا ایسا عمدہ اور مزیدار نہیں ہے جسے کھانے کے لیے کوئی آئے۔ ہم لوگ سرسبز وشاداب علاقے کے رہنے والے ہیں۔ ہمارے امیر ایسے ہیں کہ لوگ