حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کھانے سے فارغ ہوگئے تو انھوں نے کہا: اے باندی! ذرا تولیہ لے آنا۔ وہ اس سے ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے، توحضرت عمر نے فرمایا: اپنے سُرین سے اپنا ہاتھ صاف کرلو۔2
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ (حضرت عمر ؓ نے ان کو کھانا کھلایا تو) حضرت عمر کو ایسا لگا کہ جیسے انھوں نے کم کھایا ہو۔ (وہ لوگ عمدہ کھانا کھانے کے عادی تھے اور حضرت عمر کا کھانا موٹا جھوٹا اور سادہ تھا) حضرت عمر نے کہا: اے عراق والو! اگر میں چاہتا تو میرے لیے بھی عمدہ اور نرم کھانے تیار کیے جاتے جیسے تمہارے لیے کیے جاتے ہیں، لیکن ہم دنیا کی چیزیں کم سے کم استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا بد لہ آخرت میں مل سکے۔ کیا تم نے سنا نہیںکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک قوم کے با رے میں یہ فرمایا ہے کہ ان سے قیا مت کے دن یہ کہہ دیا جائے گا:
{اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰـتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا}3
تم اپنی لذّت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے۔4
حضرت حبیب بن ابی ثابت ؓ اپنے ایک ساتھی سے روایت کرتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، ان میں حضرت جریر بن عبد اللہ ؓبھی تھے۔ حضرت عمر اُن کے لیے ایک بڑا پیالہ لائے جس میں روٹی اور تیل تھا اور ان سے فرمایا: کھاؤ۔ تو انھوں نے تھوڑا سا کھایا۔ (حضر ت عمر سمجھ گئے کہ ان کو یہ سادہ کھانا پسند نہیں آیا ہے) اس پر حضرت عمر نے ان سے فرمایا: تم جو کر رہے ہو وہ میں دیکھ رہا ہوں، تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ یہی چاہتے ہونا کہ رنگ برنگے، کھٹے میٹھے، گرم اور ٹھنڈے کھانے ہوں، اوران سب کو پیٹ میں ٹھونس دیا جائے (اور میں ایسا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں)۔ 1
حضرت حُمید بن ہلال ؓ کہتے ہیں: حضرت حفص بن ابی العاص ؓ کھانے کے وقت حضرت عمر ؓ کے ہاں حاضر تھے، لیکن ان کا کھانا نہ کھایا۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا: تم ہمارا کھاناکیوں نہیں کھاتے؟ انھوں نے کہا: آپ کا کھانا سخت اور موٹا جھوٹا ہے۔ (میں اسے کھا نہیں سکتا) میرے لیے عمدہ اور نرم کھانا پکایا گیا ہے میں واپس جا کر وہ کھاؤں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے کہ میں اپنے آدمیوں کو حکم دوں تو وہ بکری کے بال صاف کر کے اسے بھون لیں، اور وہ آٹے کو کپڑے میں چھان کر اس کی پتلی چپاتیاں پکا لیں، اور وہ ایک صاع کشمش ڈول میں ڈال کر اس پر پا نی ڈال دیں جس سے ہرن کے خون کی طرح سرخ مشروب تیار ہوجائے؟ حضرت حفص نے کہا: آپ کی یہ با ت سن کر تو پتہ چلا کہ آپ اچھی زندگی کے طریقوں اور کھانے پینے کی قسموں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں! میں جانتا ہوں۔ لیکن اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں قیامت کے دن اپنی نیکیوں