حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
انھیں جنت ملے گی۔ یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھیں ڈُبڈبا آئیں اور فرمایا: اگر ہمارے حصہ میں دنیا کا یہ مال ومتاع ہے اور وہ جنت لے جائیں تو وہ ہم سے بہت آگے نکل گئے اور بڑی فضیلت حاصل کرلی۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: میں گھر میں اپنے دسترخوان پر کھانا کھا رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عمر ؓ تشریف لے آئے۔ میں نے ان کے لیے صدرِ مجلس میں جگہ خالی کر دی۔ (وہ وہاں بیٹھ گئے) پھر انھوں نے بسم اللہ پڑھ کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک لقمہ لیا اور پھر دوسرا لیا، پھر فرمایا: مجھے اس سالن میں چکنائی محسوس ہو رہی ہے جو کہ گوشت کی اپنی نہیں ہے، بلکہ الگ سے ڈالی گئی ہے۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آج بازار (دو درہم لے کر) گیا تھا، میرا خیال تھا کہ میں عمدہ اور چربی والا گوشت خریدوں گا لیکن وہ مہنگا تھا، اس لیے میں نے ایک درہم کا کمزور جانور کا گھٹیا گوشت خرید لیا اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ڈال دیا (میں نے اپنا خرچہ نہیں بڑھایا)۔ میں نے سوچا اس طرح میرے بیوی بچوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک ہڈی تو مل جائے گی۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: جب بھی حضورﷺ کے سامنے گوشت اور گھی دونوں آجاتے تو ایک کو نوش فرماتے اور دوسرے کو صدقہ کر دیتے (دونوںکو نوش نہ فرماتے۔ اس لیے میں بھی یہ سالن نہیں کھا سکتا، اس میں گوشت بھی ہے اور گھی بھی) میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اس وقت تو آپ یہ سالن کھالیں، آیندہ جب بھی گوشت اور گھی مجھے ملے گا میں یہی کروں گا (کہ ایک کو کھالوں گا اور دوسرے کو صدقہ کر دوں گا، دونوں کو ملا کر ایک سالن نہیں بناؤں گا)۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس سالن کو کھانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو ں۔2 حضرت ابو حازم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ کے ہاں گئے۔ انھوں نے حضرت عمر کے سامنے ٹھنڈا شوربا اور روٹی رکھی اور شوربے پر تیل ڈال دیا۔ تو حضرت عمر نے کہا: ایک بر تن میں دوسالن (ایک شوربا اور دوسرا تیل) میں مرتے دم تک ایسے سالن کو نہیں چکھ سکتا۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں نے زمانۂ خلافت میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا یہ معمول دیکھا کہ ان کے سامنے ایک صاع (ساڑھے تین سیر) کھجور رکھی جاتی تو اس میں سے کھاتے رہتے، یہاں تک کہ اس میں جو ردی قسم کی ہوتی اسے بھی کھا لیتے۔ حضرت سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں: میں نے کئی دفعہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ہاں رات کا کھانا کھایا۔ وہ گوشت روٹی کھاتے اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے پاؤں پر پھیر کر صاف کرلیتے اور فرماتے: یہ عمر اور آلِ عمر کے ہاتھ صاف کرنے کا تولیہ ہے۔1 حضرت ثابت ؓ کہتے ہیں: حضرت جارود ؓ نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ہاں ایک مرتبہ کھانا کھایا۔ جب حضرت جارود