حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اور گڑگڑانے میں گزاری یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی کی طرف اٹھا لیا؟ عمر کبھی عمدہ کھانا نہیں کھائے گا اور کبھی نرم کپڑا نہیں پہنے گا۔ وہ اپنے دونوں ساتھیوں کے نقشِ قدم پر چلے گا اور کبھی دو سالن ایک وقت میں نہیں کھائے گا۔ البتہ نمک اور تیل بھی دو سالن ہیں، لیکن ان کو ایک وقت میں استعمال کرے گا، اور مہینہ میں صرف ایک دن گوشت کھائے گا تا کہ اس کا مہینہ بھی عام لوگوں کی طرح گزرے۔ پھر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ دونوں حضرت عمر ؓ کے گھر سے نکلیں اور ان کی ساری بات انھوں نے حضورﷺ کے صحا بہ کو بتائی۔ چناںچہ حضرت عمر نے لباس اور کھانے وغیرہ کا معیا ر نہ بدلا، بلکہ اسی زاہدانہ طرز پر زندگی گزار دی یہا ں تک کہ اللہ عزّ وجل سے جا ملے۔1 حضرت عِکرمہ بن خالد ؓ کہتے ہیں: حضرت حفصہ، حضرت ابنِ مطیع اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے یہ بات کی کہ اگر آپ اچھا کھانا کھایا کریں تو اس سے آپ کو حق پر چلنے میں زیادہ قوت حاصل ہوگی۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: مجھے معلوم ہے تم میں سے ہر آدمی میرا خیر خواہ ہے، لیکن میں نے اپنے دونوں ساتھیوں حضورﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کو ایک راستے پر چلتے ہوئے چھوڑا ہے۔ اگر میں ان دونوں کا راستہ چھوڑ دوں گا تو منزلِ مقصود میں ان سے نہیں مل سکوں گا یعنی ان والی منزل تک نہیں پہنچ سکوں گا۔1 حضرت ابو اُمامہ بن سہل بن حُنَیف ؓ فرماتے ہیں کہ ایک زمانے تک حضرت عمر ؓ نے بیت المال سے کچھ نہ لیا (اور مسلمانوں کے اجتماعی کاموں میں مشغولی کی وجہ سے تجارت میں لگنے کی فرصت بھی نہ تھی) اس وجہ سے ان پر تنگی اور فقروفاقہ کی نوبت آگئی۔ تو انھوں نے حضور ﷺ کے صحابہ کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا کہ میں اَمرِخلافت میں بہت مشغول ہوگیا ہوں (کاروبار کی فرصت نہیں ملتی) تو میرے لیے بیت المال میں سے کتنا لینا مناسب ہے؟ حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے کہا: آپ بیت المال میں سے خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ یہی بات حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ نے کہی۔ حضرت عمر نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علی نے کہا: آپ دوپہر اور رات کا دو وقت کا کھانا لے لیا کریں۔ چناںچہ حضرت عمر نے حضرت علی کے مشورے پر عمل کیا۔2 حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے: اگر میں چاہتا تو تم سب سے زیا دہ عمدہ کھانا کھاتا اور تم سب سے زیادہ نرم کپڑے پہنتا، لیکن میں اپنی نیکیوں کا بدلہ یہاں نہیں لینا چاہتا بلکہ آخرت میںلینا چاہتا ہوں۔ اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب حضرت عمر بن خطّاب ملکِ شام آئے تو اُن کے لیے ایسا عمدہ کھانا تیار کیا گیا کہ انھوں نے اس جیسا کھانا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تو اسے دیکھ کر فرمایا: ہمیں تو یہ کھانا مل گیا، لیکن وہ مسلمان فقرا جن کا اس حال میں انتقال ہو ا کہ ان کو پیٹ بھر کر جَو کی روٹی بھی نہ ملتی تھی ان کو کیا ملے گا؟ اس پر حضرت عمر بن ولید نے کہا: