حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تیس ہزار اس نوجوان کو ہدیہ ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اے قریشی! تم نے معاف کر کے ثواب بھی لے لیا اور تم کو اتنا مال بھی مل گیا۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک باندی نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں آکر کہا: میرے آقا نے پہلے مجھ پر تہمت لگائی، پھر مجھے آگ پر بٹھا دیا جس سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے آقا نے تم کو وہ براکام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس باندی نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا تم نے کسی برائی کا اس کے سامنے اقرار کیا تھا؟ اس باندی نے کہا: نہیں۔ حضر ت عمر نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ۔ (چناںچہ وہ آدمی آگیا) جب حضرت عمر نے اس آدمی کو دیکھا تو فرمایا: کیا تم انسانوں کو وہ عذاب دیتے ہو جو اللہ کے ساتھ خاص ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شبہ ہوا تھا۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا تم نے اسے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے پھر پوچھا: کیا اس باندی نے تمہارے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مالک سے اس کے غلام کو اور والد سے اس کے بیٹے کو بدلہ نہیں دلوایا جائے گا تو میں تجھ سے اس باندی کو بدلہ دلواتا۔ اور پھر حضرت عمر نے اس آدمی کو سو کوڑ ے مارے اور اس باندی سے فرمایا: توجا، تو اللہ کے لیے آزادہے، تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی آزاد کردہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آگ میں جلایا گیا یاجس کی شکل آگ سے جلا کر بگاڑ ی گئی وہ آزاد ہے۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا آزاد کردہ ہے۔1 حضرت مکحول کہتے ہیں: حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے ایک دیہاتی کو بلایا تاکہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری کو پکڑ کر کھڑا رہے۔ اس نے انکار کردیا۔ اس پر حضرت عبادہ نے اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ اس نے ان کے خلاف حضرت عمر بن خطّاب ؓ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا : آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میںنے اسے کہاکہ میری سواری پکڑ کر کھڑا رہے، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اور مجھ میں ذرا تیزی ہے اس لیے میں نے اسے مار دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ بدلہ دینے کے لیے بیٹھ جائیں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نے کہا: کیا آپ اپنے غلام کو اپنے بھائی سے بدلہ دلوا رہے ہیں؟ حضرت عمر نے بدلہ دلوانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ حضرت عبادہ اسے اس زخم کے بدلہ میں مقررہ رقم دیں ۔2 حضرت سُوَید بن غَفَلہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ ملکِ شام تشریف لے گئے تو اہلِ کتاب میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا سر زخمی تھا اور اس کی پٹائی ہوچکی تھی۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میری جو حالت دیکھ رہے ہیں یہ سب کچھ