حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کہا: میں نے ان کو اللہ کے لیے معاف کر دیا۔1 حضرت حِرمازی ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت فیروز دَیلمی ؓ کو یہ خط لکھا : اَما بعد ! مجھے یہ اطلا ع ملی ہے کہ آپ میدے کی روٹی شہد کے ساتھ کھانے میں مشغول ہوگئے ہو، لہٰذا جب آپ کے پاس میرا یہ خط پہنچے تو آپ اللہ کا نام لے کر میرے پاس آجائیں اور اللہ کے راستہ میں جہاد کریں۔ چناںچہ حضرت فیروز (خط ملتے ہی مدینہ) آگئے۔ انھوں نے حضرت عمر کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی، حضرت عمر نے ان کو اجازت دے دی۔ (وہ اندر جانے لگے تو) ایک قریشی نوجوان بھی اندر جانے لگا جس سے ان کا راستہ تنگ ہوگیا۔ انھوں نے اس قریشی کی ناک پر (اس زور سے) تھپڑ مارا (کہ خون نکل آیا)۔ وہ قریشی نوجوان اسی حالت میں حضرت عمر ؓ کے پاس اندر چلا گیا کہ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ حضرت عمر نے اس نوجوان سے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا: حضرت فیروز نے، اور وہ اس وقت دروازے پرہی ہیں۔ حضرت عمر نے حضرت فیروز کو اندرآنے کی اجازت دی، وہ اندر آگئے۔ حضرت عمر نے کہا: اے فیروز! یہ کیا ہے؟ حضرت فیروز نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم نے کچھ عرصہ قبل ہی بادشاہت چھوڑی ہے (جس کا اثر ابھی ہماری طبیعتوں میں باقی ہے)۔ بات یہ ہوئی کہ آپ نے مجھے خط بھیج کر بلوایا، اسے آپ نے کوئی خط نہیں لکھا۔ اور (اجازت مانگنے پر) آپ نے مجھے تو اندر آنے کی اجازت دی، اس نے نہ اجازت مانگی اور نہ آپ نے اسے اجازت دی۔ اس نے (قاعدہ کے خلاف کرتے ہوئے بلا اجازت) مجھ سے پہلے میری اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہونا چاہا، (اس پر مجھے غصہ آگیا) اس لیے مجھ سے وہ حرکت سرزد ہوگئی جو یہ آپ کو بتا رہا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: آپ کو بدلہ دینا ہوگا۔ حضرت فیروز نے پوچھا: کیا بدلہ ضرور دینا پڑے گا؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں! ضرور دینا پڑے گا۔ حضرت فیروز گھٹنوں کے بل بدلہ دینے کے لیے بیٹھ گئے اور وہ نوجوان بدلہ لینے کھڑ اہوگیا۔ حضرت عمر نے اس سے کہا: اے نوجوان! ذرا ٹھہرنا، میں تمہیں وہ بات سناتا ہوں جو میں نے حضور ﷺ سے سنی ہے۔ ایک دن صبح کے وقت میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جھوٹے نبی اَسْود عَنسی کو آج رات قتل کر دیا گیا ہے اور اس کو اللہ کے نیک بندے فیروزدَیلمی نے قتل کیا ہے۔ جب تم نے ان کے بارے میں حضور ﷺ کی یہ حدیث سن لی ہے تو کیا اس کے بعد بھی تم ان سے بدلہ لینا چاہتے ہو؟ اس نوجوان نے کہا: جب آپ نے ان کے بارے میں مجھے حضور ﷺ کی یہ حدیث سنائی ہے تو میں نے ان کو معاف کر دیا ہے۔ حضرت فیروز نے کہا: میں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور اس نے خوشی خوشی مجھے معاف کر دیا، تو کیا ا س کے بعد میں اپنی اس غلطی پر (اللہ کی پکڑ سے) بچ جاؤں گا؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں۔ اس پر حضرت فیروز نے کہا: میں آپ کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میری تلوار، میرا گھوڑا اور میرے مال میں سے