حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
رہے تھے: یَا لَبـَّیْکَاہْ! میں مدد کو حاضر ہوں، میں مدد کو حاضر ہوں۔ لوگوں نے ان سے پوچھاکہ انھیںکیا بات پیش آئی ہے؟ حضرت عمر نے بتایا کہ ان کے مقررکردہ ایک امیر کی طرف سے قاصد یہ خبر لایا ہے کہ ان کے علاقہ میں مسلمانوں کے راستہ میں ایک نہر پڑتی تھی جسے پار کرنے کے لیے مسلمانوں کو کوئی کشتی نہ مل سکی، تو ان کے امیر نے کہا: کوئی ایسا آدمی تلاش کرو جو نہر کی گہرائی معلوم کرنا جانتا ہو۔ چناںچہ ان کے پاس ایک بوڑھے کو لایا گیا۔ اس بوڑھے نے کہا: مجھے سردی سے ڈر لگتا ہے۔ اور وہ موسم سردی کا تھا، لیکن اس امیر نے انھیں مجبور کر کے اس نہر میں داخل کر دیا۔ تھوڑی دیر میں ہی اس پر سردی کا بہت زیادہ اثر ہوگیا اور وہ زور زور سے پکارنے لگا: اے عمر! میری مدد کو آؤ۔ اور وہ بوڑھا ڈوب گیا۔ (اس بوڑھے کی فریاد کے جواب میں حضرت عمر ؓ کانوں میں انگلیاں ڈالے ہوئے یَالَبَّیْکَاہْ!کہتے ہوئے نکلے تھے) چناںچہ حضرت عمر نے اس امیر کو خط لکھا جس پر وہ مدینہ منوّرہ آگئے۔ ان کو آئے ہوئے کئی دن ہوگئے لیکن حضرت عمر نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔ اور یہ حضرت عمر کی عادتِ شریفہ تھی کہ جب اُن کو کسی پرغصہ آتا تھا تو اس سے اِعراض فرما لیتے تھے اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے۔ پھر اس امیر کو کہا: جس آدمی کو تم نے مار ڈالا اس کا کیا بنا؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہیں تھا۔ ہمیں نہر پار کرنے کے لیے کوئی بھی چیز نہیں مل رہی تھی۔ ہم تو صرف یہ چاہتے تھے کہ یہ پتہ چل جائے کہ نہر کے پانی کی گہرائی کتنی ہے؟ پھر بعد میں ہم نے اللہ کے فضل سے فلاں فلاں علاقے فتح کیے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تم جو کچھ (فتوحات کی خبر وغیرہ) لے کر آئے ہو مجھے ایک مسلمان اس سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تیری گردن اُڑا دیتا۔ تم اس کے رشتہ داروں کو خون بَہَا دو، اور میرے پاس سے چلے جاؤ، آیندہ تمہیں کبھی نہ دیکھوں۔1 حضرت جریر ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ ؓ کے ساتھ (جہاد میں) ایک آدمی تھا۔ (اس لڑائی میں) مسلمانوں کو بڑ امالِ غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے مالِ غنیمت میں سے اس کا حصہ تو دیا لیکن پورا نہ دیا۔ اس نے کہا: لوں گا تو پورا لوں گا، نہیں تو نہیں لوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے مارے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ وہ اپنے بال جمع کر کے حضرت عمر ؓ کے پاس لے گیا۔ (وہاں جا کر) اس نے اپنی جیب سے بال نکالے اور حضرت عمر کے سینے پر دے مارے۔ حضرت عمر نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے اپنا سارا قصہ سنایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوموسیٰ کو یہ خط لکھا: سلامٌ علیک! اَما بعد! فلاں بن فلاں نے مجھے اپنا سارا قصہ اس اس طرح سنایا۔ میں آپ کو قسم دے کر کہتاہوں! اگریہ کام (اس کے ساتھ) آپ نے بھرے مجمع میں لوگوں کے سامنے کیا ہے تو آپ اس کے لیے بھرے مجمع میں لوگوں کے سامنے بیٹھ جائیں اور پھر وہ آپ سے اپنا بدلہ لے۔ اور اگر یہ کام اس کے ساتھ آپ نے تنہائی میں کیا ہے تو آپ اس کے لیے تنہائی میں بیٹھ جائیں اور پھر وہ آپ سے اپنا بدلہ لے۔ چناںچہ جب حضرت ابو موسیٰ کو یہ خط ملا تو وہ بدلہ دینے کے لیے (اس آدمی کے سامنے) بیٹھ گئے۔ اس پر اس آدمی نے