حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
حضرت عمر نے کہا: وہ (شکایت کرنے والا) مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور اسے مارو۔ وہ مصری کوڑے مارے جا رہا تھا اور حضرت عمر فرماتے جا رہے تھے: کمینوں کے بیٹے کو مارو۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں: اس مصری نے حضرت عمرو کے بیٹے کو خوب پیٹا اور ہم چاہتے تھے کہ وہ انھیں خوب پیٹے، اور اس نے مارنا تب چھوڑا جب ہمیں بھی تقاضا ہوگیا کہ وہ اب اور نہ مارے یعنی اس نے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پھر حضرت عمر نے اس مصری سے فرمایا: اب حضرت عمرو کی چندیا پر بھی مار۔ (حضرت عمر ؓ کا مقصد اس پر تنبیہ کرنا تھا کہ حضرت عمرو کو اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کرنی چاہیے تھی جس سے اس میں کسی پربھی ظلم کرنے کی جرأت پیدا نہ ہوتی) اس مصری نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے تو ان کے بیٹے نے مارا تھا اور میں نے ان سے بدلہ لے لیا ہے (اس لیے میں حضرت عمرو کو نہیں ماروں گا)۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت عمرو سے فرمایا: کب سے تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے؟ حالاںکہ ان کو ان کی ماؤںنے آزاد جنا ہے۔ حضرت عمرو نے کہا: مجھے اس قصہ کا بالکل پتہ نہیں چلا اور نہ یہ مصری میرے پاس شکایت لے کر آیا (ورنہ میں اپنے بیٹے کو خود سزا دیتا)۔1 حضرت یزید بن ابی منصور ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو یہ خبر ملی کہ بحرین میں ان کے مقررہ کردہ گورنر حضرت ابنِ جارود یا ابنِ ابی جارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا نام اَدرِیاس تھا۔ اس نے مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ خفیہ خط وکتابت کر رکھی تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ مل جانے کا اس کا ارادہ بھی تھا اور اس کے ان جرائم پر گواہ بھی موجود تھے۔ اس پر اس گورنر نے اسے قتل کر دیا۔ وہ شخص قتل ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا: اے عمر! میں مظلوم ہوں، میری مدد کو آئیں۔ اے عمر! میں مظلوم ہوں، میری مدد کو آئیں۔ حضرت عمر نے اپنے اس گورنر کو خط لکھا کہ میرے پاس آؤ۔ چناںچہ وہ آگئے۔ حضرت عمر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ تھا۔ جب وہ حضرت عمر کے پاس اندر آئے تو حضرت عمر نے وہ چھوٹا نیزہ اس کے جبڑوں پر مارنا چاہا (لیکن مارا نہیں۔ حضرت جارود نے اجتہادی غلطی کی وجہ سے اس آدمی کو قتل کیا تھا اس لیے چھوڑ دیا) اورحضرت عمرکہتے جا رہے تھے: اے اَدرِیاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔ اے اَدرِیاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔ اور حضرت جارود کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اس نے مسلمانوں کی خفیہ باتیں دشمن کو لکھی تھیں اور دشمن سے جا ملنے کا اس نے ارادہ بھی کر رکھا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: صرف برائی کے ارادہ پر ہی تم نے اسے قتل کر دیا؟ ہم میں ایسا کون ہے جس کے دل میں ایسے برے ارادے نہیں آتے؟ اگر گورنروں کے قتل کا مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں ضرور قتل کر دیتا۔1 حضرت زید بن وہب ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ دونوں کانوں میں اُنگلیاں ڈالے ہوئے باہر نکلے اور آپ کہہ