سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
سفر بنگلہ دیش بہار آئی بہار آئی بہار آئی جانفزاء آئی کہ بنگلہ دیش میں خوشبوئے اشرف کو صباء آئی بیان سنت نبوی سے بنگلہ دیش روشن ہے کہیں سنبل کہیں نسریں کہیں ریحان و مومن ہے شب تاریک روشن ہو گئی انوار سنت سے جسے دیکھو وہی مسرور ہے اذکار سنت سے مدرسے ایک منٹ کے اور یہ انورا سنت کے جہاں میں عام ہوجائیں یہ سب گلزار سنت کے تری تقریر سے بادل چھٹے ظلمات بدعت کے ملے ہیں طالبوں کو ہر طرف لمعات سنت کے تری شفقت سے ہم سب ناقصاں امید رکھتے ہیں بحمداللہ شب تاریک میں خورشید رکھتے ہیں یہ اختر خاک تیر و بے زباں بے سازوساماں ہے مگر مٹی یہ بھی فیض شعاع مہر تاباں ہے میری یہ گرمی ایماں ترے آتش فشاں سے ہے مرے کانٹوں پہ نشان گل بھی تیرے گلستاںسے ہے مجھے احساس ہے تیرے چمن میں خار ہے اختر مگر خاروں کا پردہ دامن گل سے نہیں بہتر چھپانا منہ کسی کانٹے کا دامن میں گل ترکے تعجب کیا چمن خالی نہیں ہے ایسے منظر سے