سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
مجالس بروزِ جمعرات ، ۵؍مارچ ۱۹۹۸ء مجلس بعد نمازِ فجر در لبِ دریا آج فجر کے بعد حضرت والا نے دریا پر جانے کا حکم فرمایا۔ حضرت والا کو تین مقامات بہت پسند ہیں، سکوتِ صحرا، دامنِ کوہ اور لبِ دریا۔چناں چہ پچیس تیس آدمیوں کا قافلہ چند موٹروں میں بیٹھ کر دریا کی جانب روانہ ہوا۔ویسے تو ڈھاکہ میں کئی دریا بہتے ہیں، لیکن جس دریا پر جانے کا پروگرام بنا تھا وہ دس پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا،تقریباً ایک گھنٹہ میں دریا پر پہنچے۔ بنگلہ دیش میں لوگ زیادہ تر سفر دریاؤں کے ذریعے کرتے ہیں، دریاؤں کے کناروں پر جابجا کشتیوں کے اڈے تھے، اسی طرح کے ایک اڈے پر پہنچے، چند احباب کشتی کا انتظام کرنے لگے، حضرت والا اور دیگرساتھی دریا کے قریب انتظار کرنے لگے، حضرت والا لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے ،اچانک ایک اہم مضمون بیان کرنا شروع فرما دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی روحانی بارش کسی وقت او ر جگہ کی پابند نہیں۔کھڑے کھڑے آدھ پونے گھنٹے میں وہ مضمون بیان فرمایا ، وہ گفتگو نہ تو ٹیپ ہو سکی اور نہ بندے کے علاوہ کوئی ضبط کرسکا، بندہ عجلت میں جو چند سطور ضبط کرسکا وہ آیندہ پیش کی جا رہی ہیں پھر کشتی پر سوار ہوگئے۔ حضرت والا نے بندے کو صبح کے معمولات پورا کروانے کا حکم فرمایا۔ میں نے وہ معمولات پورے کروائے،اس کے بعدحضرت والا نے گفتگو فرمائی۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ کشتی میں سوار رہے۔ حضرت والا نے آج کچھ ایسی خاص توجہ ڈالی تھی کہ ہر ایک آپ کی طرف ہمہ تن گوش تھا اور خارجی ماحول سے بے ہوش تھا ۔ جب گھنٹے بعد کشتی سے اترے،تو اس میں اختلاف ہوگیا کہ کشتی چلی بھی تھییا نہیں ؟ ظہر سے پہلے واپس خانقاہ ڈھالکہ نگر پہنچے ۔ ارشاد فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مخلوق کے لیے دعا فرماتے تو بَدَءَ بِنَفْسِہٖ تو پہلے اپنے سے ابتدافرماتے اورفرماتے تھےکہ بندہ جب بھی دعا کرے تو پہلے اپنے لیے دعا کرے پھر دوسروں کے لیے کرے۔ پہلے اپنی اصلاح کی دعا کرے