سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
میں ترقی کے لیے جائے، کیوں کہ ان میں منتقل ہونے کی شان ہوتی ہے۔ حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ احسان کا معنیٰ ہے حسین کرنا۔ یہ کیفیات اسلام اور ایمان کو حسین کردیتی ہیں۔فطرتِ سلیمہ اور گنا ہ ارشاد فرمایا کہمتقی بننا فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے،فطرتِ سلیمہ گناہ سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے جو شخص پہلی دفعہ گناہ کرتا ہے اس کا کیا حال ہوتا ہے ؎ نہ ہم آئے نہ تم آئے کہیں سے پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے اس لیے گناہ نہ کرنا مشکل نہیں، بلکہ کرنا مشکل ہے۔ چوں کہ نہ کرنا فطرت ہے،اسی وجہ سے کافر بھی گناہ کو بُرا سمجھتا ہے ۔ تو تمہاری فطرتِ سلیمہ اس بات کی متقاضی ہے کہ گناہ نہ کرو۔ پس فطرتِ سلیمہ پر آجاؤ۔ شرافت تقاضا کرتی ہے کہ اللہ کے دوست بن جاؤ، نہ بننا دلیل ہے کہ شریف نہیں ہے ۔نفس کا خون فرمایا کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے،کیوں کہ وہ جانوروں کا خون پیتا ہے، لہٰذا کتنا طاقتور ہے، حالاں کہ شیروں کی تعداد کم ہوتی ہے،لیکن جنگل پر بادشاہت کرتے ہیں۔ اسی طرح جو اپنے نفس کا خون پیتا ہے، وہ روحانی طور پر بہت طاقتور ہوتا ہے ،بادشاہت کرتا ہے۔جس نے اس نفس کا خون نہیں پیا تواس نے اس شخص کا روحانی خون پی لیا، چاروں شانے چت گرادیے، جب اس نفس کا خون پیا جاتا ہے تو اللہ والوں کو دھڑام سےگرتا ہوا نظر آتا ہے، ایسا دیوانہ جو خونِ آرزو پیتا ہے وہ ایک بھی ہو سارے عالم کو بیدار کیے رہتا ہے ؎