سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
نے وفات پائی اور رنگون کی سرزمین میں پیوند خاک ہوئے ۔ ان کے لوح تربت پر یہ اشعار اہل دنیا کے لیےنشانِ عبرت ہیں ؎ عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئےیار میںاحساسِ ندامت واپسی پر کار میں فرمایا کہ نجات کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ اپنی زندگی کی ہر سانس کو مجرمانہ سمجھتے ہوئے دربار میں معترفانہ ، مستغفرانہ ، نادمانہ وتائبانہ آؤ اور ناجیانہ اور فائزانہ جاؤ ۔مجلس جامع مسجد سورتی، بعد نمازِ مغرب آج لوگوں کا ہجوم کل سے زیادہ تھا اور مغرب سے قبل حضرت شیخ دامت برکاتہم کے استقبال کے لیے مسجد کے دروازے پر لوگ جمع تھے ۔ دروازے سے مسجد کے ہال تک لوگ دو رویہ کھڑے ہو گئے ۔ جوں جوں حضرت آگے بڑھتے تھے تو لوگ نظرمحبت و عقیدت سے بے تابانہ حضرت کی زیارت کرتے تھے اور سُبْحَانَ اللہ ، سُبْحَانَ اللہ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں اور حضرت کے چہرے کانورِ تابانی ہر ایک کو گھائل کیے جا رہا تھا۔پھر ہر روز لوگوں کا یہی معمول تھا اوردن بدن رش بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ مجھے اپنے شیخ کے یہ اشعار یاد آتے تھے ؎حضرت کے اشعار عناصر مضمحل پیری سے اہل اللہ کے بھی ہیں مگر چہرےسے ان کے پھر بھی تابانی نہیں جاتی