سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
خلافت و اجازتِ بیعت حضرت مولانا شاہ عبد الغنی رحمۃ ا للہ علیہ نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ ان کے متعلقین مجددِ ملّت حکیم الامّت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ ا للہ علیہ کے آخری خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے رجوع کر لیں چناں چہ حسبِ وصیت آپ نے اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی رحمۃ ا للہ علیہ کے وصال کے بعد حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ ا للہ علیہ سے اصلاحی تعلق قائم فرما لیا اور دو سال بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے ۔ اس کے بارے میں آپ نے بہت پہلے خواب دیکھا تھا کہ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی رحمۃ ا للہ علیہ نے حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ ا للہ علیہ سے فرمایا تھا کہ آپ اختر کو اجازت فرما دیں اور اس کی تعبیر کئی سال بعد ظاہر ہوئی۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ ا للہ علیہ پھولپور میں حضرت مولانا شاہ عبد الغنی رحمۃ ا للہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے،چوں کہ انہوں نے حضرت تھانوی رحمۃ ا للہ علیہ اور خواجہ مجذوب رحمۃ ا للہ علیہ کی وفات کے بعد حضرت مولانا شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع کر لیا تھا تو حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سولہ سال تک آپ کو اپنے شیخ کی خدمت کرتے دیکھا تھا اسی لیے آپ فرمایاکرتے تھے کہ ہم نے جو کتابوں میں پڑھا تھا کہ سات سو آٹھ سو برس پہلے لوگ کس طرح اپنے شیخ کی خدمت کیا کرتے تھے، وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا،مولانا حکیم اختر صاحب کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ دورِ قدیم میں اس طرح خدمت کرتے ہوں گے اور جب حضرت پھولپوری رحمۃ ا للہ علیہ کا انتقال ہوا تو حضرت مولا نا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت کو خط میں تحریر فرمایا کہ از ابتدا تا انتہا خدمتِ شیخ مبارک ہو اور ایک بار جدہ میں حضرت سے فرمایا کہ آپ سے دین کا جوعظیم الشان کام لیا جا رہا ہے یہ حضرت پھولپوری رحمۃ ا للہ علیہ کی خدمت کا صدقہ ہے ۔