سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
بہت مقبول ہیں۔ میرا ذوق ہے کہ حوالے سے بات کی جائے۔ آپ لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ مدلل گفتگو کیا کریں اور اگر مطالعہ نہیں کرسکتے، تو میری کتابوں کا مطالعہ ہی کرلیا کرو۔ اگر حافظہ کمزور ہو تو لکھ کر اور دیکھ کر بیان کر دیا کرو۔شیخ کا کسی کو خلافت دینا ارشاد فرمایا کہ حکیم الامت تھانویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں کبھی خلافت حوصلہ افزائی کے لیے دیتا ہوں،جیسے میزان اور منشب پڑھنے والوں کو مولوی کہہ دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تقویٰ اور استقامت ہر خلیفہ کے لیے ضروری ہے،تاکہ بالغ ہو جائےاور یہ استقامت شیخ کے پاس وقت لگانے سے حاصل ہوگی۔ چالیس دن خانقاہ پربنیتِ اصلاح لگاؤ اور اللہ تعالیٰ کو دل میں مراد رکھ کر شیخ کے مرید بنو اور اپنے اندر طلب پیداکرو۔طلب وہ چیز ہے جو خون کو دودھ میں تبدیل کر دیتی ہے، جیسے بچہ جب روتا ہے اور ماں کا پستان پکڑتا ہے تو ماں کا خون دودھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔صرف آہ وزاری سے اللہ تعالیٰ کی یاری نہیں ملے گی بلکہ عمل بھی کرنا پڑے گا۔ پھر خلفاء کو تنبیہ فرماتے ہوئے کہا کہ اگر کسی خلیفہ نے چلّہ نہ لگایا، توجب دوبارہ فہرست تیار کی جائے گی تو سلبِ خلافت کا امکان ہے، وجوب نہیں۔ میں نے اپنے شیخ حضرت مولانا عبدالغنی پھولپوریرحمۃ اللہ علیہ کے ہاں پہلی ملاقات پر ہی چالیس دن لگائے۔صفتِ رحمٰن اور رحیم میں فرق علامہ آلوسیرحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح المعانی میں ارشاد فرماتے ہیں کہ صفتِ رحمانیتممزوج بألم بھی ہوتی ہے یعنی رحمت کے ساتھ تکلیف بھی ہوتی ہےاور رحیمیت میں صرف عافیت ہوتی ہے۔رَبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ کا معنیٰ فرمایا کہ لفظ رب کیوں نازل فرمایا؟اس لیے کہ پالنے والے کو اپنی پالی ہوئی