سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
پیر کی قدر ان سے پوچھو جنہیں خدا ملتا ہے،جب خدا ملتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ دل اور جان میں سے کیا کیا پیر پر لٹاؤں اور کیا کیا قربان کروں ؎ سرفروشی دل فروشی جان فروشی سب صحیححسنِ فانی سے دل بچانا اور حلاوتِ ایمانی پانا ارشاد فرمایا کہحسین کو نہ دیکھو، اگر ہوائی جہاز میں ایئرہوسٹس بن سنور کر اپنا حسن پیش کرے،اس وقت اپنی نگاہ کو بچالو، اس سے دل تو ٹوٹ جائے گا، لیکن اس ٹوٹے ہوئے دل میں خدا آجائے گا۔ نظر بچانے پر جو کچھ ملتا ہے، اگر آپ لوگوں کو مل جائے تو خدا کی قسم !دل وجان قربان کردو۔ قسم کھاکر کہہ رہا ہوں کہ حدیث شریف کے مطابق اس شخص کو حلاوتِ ایمانی کی مٹھاس عطا کردی جائے گی۔ اور ایمان کی مٹھاس کوئی معمولی چیز ہے ؟اور اس ٹوٹے ہوئے دل میں اللہ تعالیٰ آجائیں گے پھر وہ مست ہوکر یہ مصرعہ پڑھے گا ؎ آجا میری آنکھوں میں سماجا میرے دل میں ارشاد فرمایاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نعمت ہے کہ مجلس میں اتنے لوگ آجاتے ہیں ،اگر اشتہار بھی دیا جائے تو اتنا مجمع نہ ہو۔ حضرت والا کی اس بات پر تائب صاحب کا یہ شعر خوب صادق آتا ہے ؎ لوگ صحراؤں سے گلشن پہنچے کب کسی نے تھا اشتہار دیامجالس بروز جمعۃ المبارک،یکم دسمبر2000ء نارِ شہوت کا علاج ارشاد فرمایا کہ مولانا جلال الدین رومی نے ایک سوال قائم کیا ہے: نارِشہوت چہ کشد؟ شہوت کی آگ کیا چیز بجھا تی ہے؟