سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
کہ خواجہ صاحب عالم بھی نہ تھے۔ تو شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خواجہ صاحب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بات لفظ بلفظ نقل کرتے تھے اور شیخ کے بہت عاشق تھے ۔روحِ ایمانی کی پیدایش ارشاد فرمایا کہ انسانی جسم انسان سے پیدا ہوتا ہے اورروحِ ایمانی روحانی لوگوں سے پیدا ہوتی ہے ۔مجلس بعد نمازِ مغرب در خانقاہ اہل اللہ سے بدگمانی ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ علمِ قلیل کی وجہ یا محبت سے محرومی کی وجہ سے جلد دین کے خادموںکے ساتھ بد گمان ہوجاتے ہیں۔حضرت حکیم الامت فرماتے تھے کہ بدگمانی کے دو اسباب ہیں:۱۔ قلت ِ علم ۲۔ قلتِ محبت۔ اگر محبت ہے تو کم علمی نقصان دہ نہیں ہے۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے اہلِ محبت پر اعتماد ہوتا ہے اہلِ عقیدت پر اعتماد نہیں ہوتا،کیوں کہ عقیدت خاپہ خر( گدھے کے خصیے ) کی طرح ہےکبھی خوب ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی غائب ہو جاتے ہیں۔اہلِ محبت ساری زندگی وفا کرتے ہیں،جبکہ اہلِ عقیدت بدگمان ہوجاتے ہیں،اس لیے اللہ تعالیٰ نے مرتدین کے مقابلے پر اہلِ محبت کو ذکر فرمایا،کیوں کہ وہ ہمیشہ باوفا رہتے ہیں۔کسی کو حقیر سمجھنا ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کو ایک قوم قرار دیا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے ہونے والے ولی کے دل میں ایک قوم کا تصور ڈالتے ہیں پھر وہ کسی قوم کو حقیر نہیں سمجھتا۔