سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
ہم نوٹ : |
|
گود میں، تو بچہ ہنستا ہوا بھاگتا ہے اورسمجھتا ہے کہ میں ماں کی گرفت میں نہیں آسکتا اور ماں بھی اس کے پیچھے ہنستی ہوئی بھاگتی ہے اور دوڑکر اس کو گود میں لے کر پیار کر لیتی ہے ۔ اے اللہ تعالیٰ ! ہم بھی مثل بچوں کے ناداں ہیں ، ہم گناہوں کے چکر میں فانی لاشوں کے پیچھے آپ سے دور بھاگتے جارہے ہیں ۔ اے اللہ تعالیٰ ! اپنی رحمت کو دوڑا کر ہم کو گود میں لے لے ، اپنی رحمت کی گود میں لے لے ، اپنی رحمت کی گود میں لے لے، ہم کو سو فیصد ولی اللہ بنا دے ، یہاں ایک بندہ بھی ایسا نہ رہے جو آپ کا ولی نہ بنے۔ اے اللہ سب کے لیے فیصلہ فرما دے، اور اے اللہ تعالیٰ! میرے جو احباب یہاں موجودنہیں ہیں، حاضرین کے علاوہ جملہ احبابِ غائبین کو بھی سارے عالم میں جہاں بھی ہیں، سب کو جذب فرما کر اپنا بنا لے اور پوری اُمتِ مسلمہ پر رحم فرمادے بلکہ اُمتِ دعوت اہلِ کفر کو بھی ایمان کی دولت سے اور اپنی دوستی سے نوازش فرما دے۔ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی النَّبِیِّ الْکَرِیْمْ اٰمینہر کام اور مشکل کے لیے مجرب وظیفہ ایک صاحب کے دریافت کرنے پر حضرت نے فرمایا کہیَا سُبُّوْحُ، یَاقُدُّوْسُ ، یَاغَفُوْرُ،یَاوَدُوْدُ کا پڑھنا ہر کام اور مشکل میں تیربہدف ہے ۔ کسی بھی کام اور مشکل میں تین دفعہ پڑھ لیا جائے تو ہر مشکل آسان ہوجائے گی ۔رندیت سے ولایت تک حضرت شیخ اپنے کلام میں فرماتے ہیں ؎ ہوئے ہیں کتنے رند اولیاء بھی ذرا دیکھو تو فیضِ خانقاہی اللہ والوں کی صحبت نے کتنے بھٹکے ہوؤں کو راہِ ہدایت دکھا دی اور فسق و فجور اور گناہوں کی پستیوں سے نکال کر ولایت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔چناں چہ اس سفر میں ایک رات