سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
یہ ہوتو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گناہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ کے خوف میں کمی ہے یا اللہ کی یاد میں کمی، اور یہ دونوں چیزیں تقویٰ کے لیے معین ہیں۔ جو آفتاب کے پاس ہو وہاں کیڑے مکوڑے کیسے آئیں گے؟ تو اگرخالقِ آفتاب کی یادہو تو پھر کیا ہوگا؟ اور اس دعا میں یہ بھی مانگا گیا ہے کہ میری ہمت اور خواہشِ نفس کو اپنے محبوب کا موں میں لگادے۔خشیت کو ذکر پرمقدم کرنے کی حکمت یہ کلامِ نبوت کا معجزہ ہے کہ پہلے خشیت ہے پھر ان کی یاد ہے ،کیوں کہ عشق ومحبت آزاد ہوجائے تو بدعت بن جاتا ہے۔ جب خشیت رہے گی تو شریعت سے آزاد نہ ہوگا، اس لیے حضرت عبداللہ بنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا صحابی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایاوَاَمَّامَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ، وَہُوَ یَخۡشٰی؎ اور وہ جو آئے دوڑتے ہوئے درآنحالیکہ وہ ڈر رہے تھے۔ تو یہ ان کا دوڑنا عشقِ رسول کی وجہ سے تھا، اور ان کو خوف بھی تھا ،ڈر بھی تھا،تو جو عشق تابعِ شریعت نہیں ہوگا تو وہ بدعت بن جائے گا۔خشیت اور خوف میں فرق قرآنِ مجید میں خشیت اور خوف دونوں استعمال ہوئے ہیں،خشیت سے مراد وہ خوف ہوتا ہے جو عظمت کے ساتھ ہواور جو بلا عظمت کے ہو وہ خوف ہوتا ہے لہٰذا قرآنِ مجید میں جہاں لفظِ خوف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال ہوا ہے، وہاں خشیت ہی مراد ہے کہ عظمت کے ساتھ ڈرنا۔ اور بغیر عظمت کے ڈرنا خوف کہلاتا ہے،جیسے سانپ سے ڈرنا یہ خوف ہے، اس لیے بعد میں اسے جوتے بھی مارتے ہیں۔رات کی مجلس کے بارے میں ارشاد ارشاد فرمایا کہرات کو جو مجلس ہوتی ہے کہ میں خود سپر عاشق ------------------------------