حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تمہارے دل میں (عجب اور کبر، بڑائی وغیر ہ کا) برا اثر نہ پیدا ہوجائے اس لیے میں نے چاہا کہ یہ سارا اثر جھاڑ دوں۔1 حضرت ہمّام بن حارث ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عثمانؓ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدادؓ جو بھاری بھرکم تھے وہ اس آدمی کی طرف گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے منہ میں کنکریوں کی لپیں بھر کر ڈالنے لگے۔ حضرت عثمان نے ان سے فرمایا: آ پ کو کیا ہوگیا؟ حضرت مقداد نے کہا: حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم (دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے اور لوگوں کو بگاڑنے کے لیے) تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیا کرو۔ (حضرت مقدادؓ نے اس کا ظاہر ی مطلب مراد لیا ہے، لیکن بظاہر حضورﷺ کا مقصد یہ ہے کہ اسے کچھ نہ دو)2 حضرت ابو معمر ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑے ہو کر ایک امیر کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدادؓ اس پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: حضورﷺ نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے کہ(غلط مقصد کے لیے) تعریف کرنے والوں کے چہروں پر ہم مٹی ڈالا کریں۔3 حضرت عطاء بن ابی رباح ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس ایک آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کرنے لگا تو حضرت ابنِ عمر اس کے چہرے کی طرف مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو۔4 حضرت عطاء بن ابی رباح ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی ابنِ عمرؓکی تعریف کر رہا تھا۔ (کچھ دیر کے بعد) حضرت ابنِ عمر اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو۔1 حضرت نافع ؓ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے کہا: اے لوگوں میں سے سب سے بہتر! یا یوں کہا: اے لوگوں میں سے سب سے بہتر کے بیٹے! تو حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: نہ میں لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں اور نہ سب سے بہتر کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوںاور اس کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! (بلاوجہ تعریفیں کر کے) تم آدمی کے پیچھے پڑ جاتے ہو اور پھراسے ہلاک کر کے چھوڑتے ہو (کہ اس کے دل میں عجب وبڑائی پیدا ہو جاتی ہے)۔2 حضرت طارق بن شہاب ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہؓ نے فرمایا: بعض دفعہ آدمی اپنے گھر سے باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دین ہوتا ہے، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دین میں سے کچھ بھی باقی نہیں ہوتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ آدمی باہر جا کر ایسے آدمی کے پاس جاتا ہے جو نہ اپنے نفع نقصان کا مالک ہے اور نہ اس کے نفع نقصان