سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
ہے، لیکن دنیا چین کے دوسرے طریقوں میں کیوں مشغول ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ مثنوی میں فرماتے ہیں کہ عرب میں ہندوستان سے ایک ہاتھی لایا گیا ، عرب میں ہاتھی نہیں ہوتا، عربوں نے ہاتھی کبھی دیکھا نہ تھا، لہٰذا اس کو دیکھنے کے لیے دوڑے،لیکن رات کے اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک عرب نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ اچھا! ہاتھی نام ہے ایک چھت کا۔ دوسرے نے اس کے پیر کو ٹٹولا اور کہا کہ نہیں تم غلط کہتے ہو، ہاتھی نام ہے ستون اور کھمبے کا۔ تیسرے کا ہاتھ اس کی سونڈ پر پڑ گیا، اس نے کہا کہ یہ نہ چھت ہے نہ ستون ہے، ارے یہ تو نابدان ہے۔ اورچوتھے نے اس کا کان ٹٹولا اور کہا کہ تم تینوں بے وقوف ہو یہ تو پنکھاہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اختلاف کا سبب اندھیرا تھا۔ ایک عرب چراغ لے آیا،روشنی آتے ہی سب اختلاف دور ہو گیا اور سب اپنی بےوقوفیوں پر نادم ہوئے ۔ اسی طرح دنیا جو وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے نور سے محروم ہے، تو وہ وی سی آر ، سینما اور شراب و زنا میں چین تلاش کر رہی ہے، لیکن ان کوچین کی ہوا بھی نہیں لگی۔ واللہ! اگر یہ چین پاتے تو خود کشی کیوں کرتے؟امریکا جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ خوشحال ، ترقی یافتہ اور عیش و اطمینان کا حامل کہتا ہے، سب سے زیادہ خود کشی وہیں ہوتی ہے ؎ خدا کی سرکشی سے خود کشی ہے مال و دولت میں کبھی اللہ والوں سے نہیں ایسا سنا جاتا اگر پیٹرول کے مانند ہوتا یہ سکونِ دل زمیں میں کر کے بورنگ اس کو ہر کافر بھی پا جاتا بتوں کے عشق سے دنیا میں ہر عاشق ہو ا پاگل گناہوں سے سکوں پاتا تو کیوں پاگل کہا جاتا لہٰذا ان کافروں کی اتباع میں جو مسلمان اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی میں اور حرام لذتوں میں سکون تلاش کر رہے ہیں،اللہ تعالیٰ کے نام پر جلدی توبہ کر لیں اور اللہ والوں کی صحبت