سفر نامہ ڈھاکہ و رنگون |
§ہم نوٹ : |
|
اتَّقُوا اللہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ اللہ تعالیٰ نے پہلے جملے میں تقویٰ کا حکم فرمایا ہے اور دوسرے جملے میں تقویٰ ملنے کی جگہ بتلائی ہے کہ وہ صادقین یعنی تقویٰ میں سچے لوگوں کی معیت اور دوستی ہے۔یہ نسخہ اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا ہےتو کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ اور دراصل اپنی دوستی کا طریقہ بتلارہے ہیں،کیوں کہ متقی ہی اللہ کا دوست ہے،کیوں کہ ارشادِ ربانی ہے اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡن کہ میرے دوست صرف متقی لوگ ہیں۔تو دوستی حاصل کرنے کا نسخہ وہ بتلارہے ہیں جن کو ہم نے دوست بنانا ہے کہ صادقین کے ساتھ رہو۔ میری دوستی مل جائے گی، تو اس سے بڑھ کر کون سا راستہ پیارا ہوگا؟ معلوم ہوا کہ دوست بننا اللہ تعالیٰ کا فرضِ عین ہے اور صادقین کے ساتھ رہنا دوستی کا ذریعہ ہے ، لہٰذا یہ بھی فرضِ عین ہے،کیوں کہ فرضِ عین کا وسیلہ بھی فرضِ عین ہے اور اللہ تعالیٰ کا دوست بننا اختیاری مضمون نہیں کہ کرویا ناکرو۔ یہ جنازے کی نماز نہیں کہ چند لوگ پڑھ لیں، لہٰذا چند لوگوں کے ولی اللہ بننے سے کام نہیں چلے گا۔اور دوسری بات یہ ہے کہ دوستی میں پہل اللہ تعالیٰ خود کرتے ہیں پھر بندہ دوستی کرتا ہے۔ اگراللہ تعالیٰ بیان نہ فرماتے تو ہمارا منہ بھی نہ تھا دوستی کااور ہم ان سے دوستی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے، لہٰذا جو لوگ سمجھتے ہیں کہ معمولی مسلمان رہنا کافی ہے تو اس مقدمہ دوستی میں پھانسے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جب ہم نے اپنی دوستی اور اپنے دوستوں کی دوستی فرض کردی تھی،تو اب کوئی عذر کام نہیں آئے گا، اور اگر دوستی مشکل ہوتی تو معیتِ صادقین بیان نہ فرماتے۔اور یاد رکھو تقویٰ ٹوٹ بھی سکتا ہے، جس طرح باوضو رہنے والے کا وضو پیشاب وغیرہ سے ٹوٹ جاتا ہے، لیکن جب وضو ٹوٹتا ہے تو وہ دوبارہ کرلیتا ہے،اسی طرح متقی سے بھی گناہ ہوجاتا ہے، لیکن وہ فوراً توبہکرلیتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایااَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ؎ ترجمہ: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ کوئی گناہ نہیں کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لَاذَنْبَ لَہٗ ہے، تو اس کو حقیر کیوں سمجھتے ہو؟ بلکہ بعض بندے گناہ کے ------------------------------