تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اطاعت قبول کر لی۔ فتح خیبر کے بعد فتح خیبر سے واپسی کے وقت ایک منزل پر صبح کے وقت نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ کھلی‘ نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کسی کی آنکھ کھلی تمام لشکر اسلام سوتا ہی رہا اور آفتاب نکل آیا‘ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی آنکھ کھلی‘ سب کو بیدار کیا‘ وہاں سے روانہ ہو کر اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے نماز فجر ادا کی‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر اس طرح آنکھ نہ کھلے تو جب بیدار ہوا کرو اسی وقت نماز ادا کیا کرو۔۳؎ یہود لوگ بڑے مالدار تھے اور خیبر کی زمینیں جو یہودیوں کے قبضے میں تھیں خوب زرخیر اور قیمتی تھیں‘ فتح خیبر کے اموال غنیمت اور زرعی زمینیں جو مسلمانوں میں تقسیم ہوئیں تو مہاجرین کی پریشان حالی اور افلاس سب دور ہو گیا‘ اب مہاجرین صاحب جائداد بھی ہو گئے اور انصار کی مالی امداد سے بھی ان کو بے نیازی حاصل ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت تک اپنے ذاتی اخراجات اور اپنے اہل بیت کے لیے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو کوئی تکلیف نہ دی تھی‘ انصار یا مہاجرین کی طرف سے اگر کوئی کبھی ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے بھی ان کو ہدیہ بھیجے جاتے تھے‘ خیبر کی زمینوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حصے میں فدک کی جائداد آئی تھی‘ اسی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مہمانوں کی ضیافت اور بنی نضیر کی زمین سے اپنے رشتہ داروں اور یتیموں اور مفلس مسلمانوں کی پرورش کرتے تھے۔ ۱؎ صحیحبخاریکتابفرضالخمسحدیث۳۱۵۲۔سیرت ابن ہشام ص ۴۶۳ و ۴۶۴۔ ۲؎ صحیحبخاریکتابالمغازیحدیث۴۲۳۴۔صحیحمسلمکتابالایمانبابغلظتحریکالغلول۔ ۳؎ صحیحبخاریکتاباوقاتالصلٰوۃصحیحمسلمکتابالصلوٰۃبابقضاءالصلوٰۃالفائتۃ۔ مشرکین مکہ کو جب خیبر پر مسلمانوں کی چڑھائی کا حال معلوم ہوا تو وہ بڑی بے صبری سے اس لڑائی کے نتائج کا انتظار کرنے لگے۔ مکہ والوں میں سے ایک شخص حجاج بن علاط سلمی رضی اللہ عنہ جو بہت مالدار شخص تھے کسی سفر کے بہانے سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے اور جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے‘ بعد فتح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ابھی تک مکہ والوں کو میرے مسلمان ہونے کا حال معلوم نہیں ہوا‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اجازت دیں تو میں مکہ میں جا کر اپنا روپیہ جو میری بیوی کے قبضہ میں ہے اور قرضہ جو لوگوں کے ذمہ ہے وصول کر کے لے آئوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دے دی۔ حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے تو مکہ والوں کو خیبر کی خبر کا بے حد منتظر پایا انہوں نے مکہ والوں کے ساتھ عجیب تمسخر کیا اور ان سے خیبر کا اصل حال