تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
رضی اللہ عنہ اپنی تازہ دم فوج لے کر خیموں سے نکل پڑے اور رومیوں پر حملہ آور ہوئے‘ رومی اس حملے کی تاب نہ لا کر اپنے خیموں کی پناہ میں گئے لیکن ان کو وہاں بھی امان نہ ملی‘ مسلمانوں نے ان کو گرفتار اور قتل کرنا شروع کیا۔ جرجیر نے مقابلہ کیا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ نے اس کو تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔ اگلے روز مسلمان اس میدان سے کوچ کر کے آگے بڑھے اور افریقہ کے دارالصدر شہر سبیطلہ کا محاصرہ کیا‘ چند روز کے بعد اس کو فتح کر کے بے حد و بے شمار مال غنیمت پر قبضہ پایا‘ سواروں کو فی کس تین تین ہزار دینار ملے‘ شہر سبیطلہ کی فتح کے بعد مسلمانوں نے آگے بڑھ کر قلعہ جسم کا محاصرہ کیا‘ جس کو اہل افریقہ نے خوب مستحکم کر رکھا تھا‘ اس کو بھی مسلمانوں نے آسانی کے ساتھ فتح کر لیا‘ آخر اہل افریقہ نے اسلامی طاقت کے آگے اپنے آپ کو مغلوب و مجبور دیکھ کر دس لاکھ دینار جزیہ دے کر صلح کر لی۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ افریقہ کی بشارت اور مال غنیمت کا خمس لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے‘ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کیا‘ اس خمس کو مروان بن الحکم نے پانچ لاکھ کے عوض خرید لیا‘ عبداللہ بن سعد ایک برس تین مہینے کے بعد ۲۷ ھ میں افریقہ سے مصر کو واپس آئے‘ افریقہ والوں نے بجائے جرجیر کے اپنا ایک اور بادشاہ منتخب کر لیا اور مسلمانوں کو مقررہ جزیہ ادا کرنے لگے‘ افریقہ اسی ریاست یا اسی ملک کا نام سمجھنا چاہیے جس کو قرطاجنہ کا ملک کہتے تھے۔۱؎ فتح قبرص و روڈس عبداللہ بن سعد جب علاقہ قرطاجنہ یا افریقہ سے مصر واپس چلے آئے اور اسی سال یعنی ۲۷ ھ میں ان کی جگہ عبداللہ بن نافع مصر کے گورنر مقرر ہوئے تو قسطنطین نے پھر جنگی تیاریاں شروع کیں‘ ۲۸ ھ میں اس نے ایک بحری فوج افریقہ کی طرف روانہ کی‘ اس فوج نے ساحل افریقہ پر اتر کر اس خراج کا مطالبہ اہل افریقہ سے کیا جو وہ قیصر کو پہلے دیا کرتے تھے‘ اہل افریقہ نے اب قیصر کو خراج کے دینے ۱؎ قرطاجنہ اب براعظم افریقہ کا ایک مشہور شہر ہے۔ سے انکار کیا اور کہا کہ جب ہمارے ملک پر مسلمان حملہ آور ہوئے تو قیصر ہماری کوئی امداد نہ کر سکا‘ لہذا اب اس کی سیادت تسلیم کرنا اور اس کو خراج دینا ہمارے لیے ضروری نہیں‘ یہاں تک کہ اہل افریقہ اور رومی لشکر میں مقابلہ ہوا‘ رومیوں نے اہل افریقہ کو شکست دی اور وہاں سے اسکندریہ کی طرف بڑھے‘ ادھر عبداللہ بن نافع نے مدافعت اور ۱؎ مشہور روایت یہ ہے کہ جرجیر کی فوجوں نے مسلمانوں کو ہالہ کی طرح گھیرے میں لیا تھا اور وہ سخت پریشان تھے کہ عبداللہ بن زبیر ساری تفصیل معلوم کر کے چند ہزار مسلمان کو لیے ہوئے جرجیر کی سمت حملہ آور ہوئے اور جرجیر کو قتل کر کے اور اس کا سر کاٹ کر نیزے پر بلند کر دیا‘ یہ دیکھ کر جرجیر کی فوج بے تحاشا بھاگی‘ مسلمانوں نے تعاقب کر کے انہیں بری طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ مقابلہ کی تیاری کی‘ رومی سردار افریقہ کی طرف سے اسکندریہ کی طرف آیا‘ تو قیصر روم خود چھ سو کشتیاں لے کر اسکندریہ کے ارادے سے روانہ ہوا‘ دونوں طرف سے رومی لشکر اسکندریہ پر قبضہ کرنے کے لیے آ گئے ادھر سے اسلامی لشکر نے مقابلہ