تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اگرچہ ملک عرب میں دین ابراہیمی کا رواج تھا اور اہل عرب شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے‘ لیکن خانہ کعبہ کی عظمت کو سب تسلیم کرتے اور خانہ کعبہ کا حج ہمیشہ کرتے تھے‘ حج کے ایام میں لڑائیوں کو بھی ملتوی کر دیتے تھے‘ ماہ شوال ۶ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب میں دیکھا کہ صحابہ کرام کے ساتھ خانہ کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں‘ صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خانہ کعبہ کے طواف و زیارت کی آرزو بھی تھی‘ اس خواب سے اور بھی تحریک ہوئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ یعنی زیارت کعبہ کا عزم فرمایا‘ ماہ ذیقعدہ ۶ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہزار چار سو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے‘ عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی کے ستر اونٹ ہمراہ لیے‘ احرام کا باندھنا اور قربانی کے اونٹوں کا ہمراہ ہونا اس بات کی علامت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے بلکہ صرف بیت اللہ کی زیارت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد ہے‘ قریش مکہ کو بھی کسی طرح حق حاصل نہ تھا کہ وہ کعبہ کی زیارت سے کسی کو باز رکھیں۔ مقام ذی الحلیفہ میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص کو احتیاطاً بطور جاسوس آگے روانہ کیا‘ اس نے مقام عسفان میں واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع دی کہ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کا حال سن کر بڑی زبردست جمعیت مقابلہ کے لیے فراہم کر لی ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خانہ کعبہ تک پہنچنے سے روکیں گے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم لوگ عمرے کی نیت سے آئے ہیں لڑنے کے ارادہ سے نہیں آئے اور اگر کوئی شخص ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو تو ہمیں مجبوراً اس سے لڑنا چاہیے‘ ۱؎آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ رائے سن کر آگے بڑھنے کا حکم دیا‘ قریش مکہ نے خالد بن ولید کو سواروں کا ایک دستہ دے کر مقام کراع الغمیم پر بھیج دیا کہ مسلمانوں کو مکہ کی طرف بڑھنے سے روکیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عسفان سے روانہ ہو کر راستے سے کسی قدر داہنی جانب کترا کر سفر اختیار کیا اور یکایک خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مغرب سے گذرے‘ خالد بن ولید مسلمانوں کی اس یکایک تبدیلی کو دیکھ کر مکہ کی طرف سرپٹ گھوڑا دوڑا کر گئے اور اہل مکہ کو مسلمانوں کے قریب پہنچ جانے کی اطلاع دی‘ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم بڑھتے ہوئے اس پہاڑی پشتے تک پہنچ گئے جس سے دوسری جانب اتر کی شہر مکہ کا نواحی علاقہ شروع ہو جاتا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی اس جگہ بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اونٹنی نے دھوکہ دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اونٹنی نے دھوکہ نہیں دیا۔ ۱؎ صحیحبخاریکتابالمغازیحدیث۴۱۷۸۴۱۷۹۔ حرمت الٰہی کے خلاف تمہاری خواہشیں پوری نہیں ہو سکیں۔۱؎ مقام حدیبیہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام حدیبیہ کے کنویں پر پہنچ کر قیام کیا‘ اس کنویں میں بہت ہی تھوڑا سا پانی تھا جو ذرا سی دیر میں ختم ہو گیا۔ لوگوں کو پانی کی تکلیف ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر سیدنا براء بن عازب