تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ابو حفص تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو فاروق کے لقب سے ملقب فرمایا تھا‘ آپ رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے چالیس سال پہلے پیدا ہوئے‘ لڑکپن میں اونٹوں کے چرانے کا شغل تھا‘ جوان ہونے کے بعد عرب کے دستور کے موافق نسب دانی‘ سپہ گری‘ شہسواری اور پہلوانی کی تعلیم حاصل کی‘ عہد جاہلیت میںبھی اور مسلمان ہونے کے بعد بھی تجارت کا پیشہ کرتے تھے۔
بعض خصوصی فضائل
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پیشتر باز ارعکاظ میں جہاں اہل فن کا سالانہ اجتماع ہوتا تھا اور بہت بڑا میلہ لگتا تھا اکثر دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے اور ملک عرب کے نامی پہلوانوں میں سمجھے جاتے تھے‘ شہسواری میں یہ کمال حاصل تھا کہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے اور اس طرح جم کر بیٹھتے کہ بدن کو حرکت نہ ہوتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت فتوح البلدان کی روایت کے موافق قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے‘ ان میں ایک سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے‘ مسلمانوں میں سے چالیس مسلمان مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام لائے‘ بقول بعض انتالیس مردوں اور تئیس عورتوں کے بعد‘ اور بقول دیگر ۴۵ مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام میں داخل ہوئے‘ آپ سابقین اولین اور عشرہ مبشرہ میں ہیں‘ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خسر ہیں‘ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار علماء اور زہاد صحابہ رضی اللہ عنھم میں ہے‘ ۳۹ ھ حدیثیں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں جن کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ‘علی رضی اللہ عنہ ‘طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ سعد رضی اللہ عنہ ‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ ابوذر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ‘ انس رضی اللہ عنہ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ عمرو بن عاص‘ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ براء بن عازب‘ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ‘ اور دیگر صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس روز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اس روز مشرکین نے کہا کہ آج مسلمانوں نے ہم سے سارا بدلہ لے لیا اور اسی روز آیت {یٰٓــاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (الانفال : ۸/۶۴) نازل ہوئی‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس روز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اس روز سے اسلام عزت ہی پاتا گیا۔۱؎ آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام گویا فتح اسلام تھی‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت گویا نصرت تھی‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کی امامت رحمت تھی‘ ہماری مجال نہ تھی کہ کہ ہم کعبہ شریف میں نماز پڑھ سکیں‘ لیکن جب عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مشرکین سے اس قدر جدال و معرکہ آرائی کی کہ مجبوراً ان کو ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت دینی پڑی۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اسلام بمنزلہ ایک اقبال مند آدمی کے ہو گیا کہ ہر قدم پر ترقی کرتا تھا‘ اور جب سے آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی اسلام کے اقبال میں کمی آ گئی کہ ہر قدم پیچھے ہی پڑتا ہے۔
ابن سعد‘ صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سے سیدنا