تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گیا۔۲؎ یہودیوں کے ایک سردار سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت الحرث نے ایک سالم بکری بھنی ہوئی زہر آلود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سیدنا بشربن البراء بن معردر نے اس کو کھانا شروع کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو چکھتے ہی تھوک دیا‘ اور فرمایا کہ مجھ کو اس بکری کی ہڈیاں خبر دیتی ہیں کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے‘ مگر سیدنا بشر رضی اللہ عنہ اس کے گوشت میں سے کچھ چبا کر نگل چکے تھے چنانچہ وہ اسی وقت شہید ہو گئے۔۳؎ زینب یہودیا کو بلوایا گیا‘ اس نے زہر ملانے کا اقرار کیا اور وہ وارثان بشر کے حوالے کی گئی‘ مگر انہوں نے اس لیے اس کو قتل نہ کیا کہ وہ مسلمان ہو گئی تھی۴؎ ابھی خیبر سے روانگی کی تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ ملک حبش سے واپس آنے والے مہاجرین کا ایک قافلہ معہ شاہ حبش کے خط اور ہدایا کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اس قافلہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب‘ ان کی بیوی اسماء بنت عمیس‘ ان کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ ‘ عون رضی اللہ عنہ ‘ محمد رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن سعید بن العاص بن امیہ‘ ان کی بیوی امینہ بنت خلف اور ان کے لڑکے سعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ام خالد رضی اللہ عنھا ‘ سیدنا عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ جہم رضی اللہ عنہ بن قیس‘ حرث بن خالد رضی اللہ عنہ ‘ محینہ بن عذار رضی اللہ عنہ ‘ معمر بن عبداللہ‘ ابوحاطب رضی اللہ عنہ بن عمرو‘ ملک بن ربیعہ بن قیس رضی اللہ عنہ اور عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور جو ان لوگوں کو لینے کے لیے گئے تھے‘ شامل تھے۔ ان میں سے کچھ مدینہ گئے اور کچھ خیبر آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان مومنین سے مل کر بہت مسرور ہوئے۔ خیبر سے مشرق میں میں فدک ایک مقام تھا جو خیبر سے دو دن کے فاصلے پر تھا۔ فدک کے یہودیوں نے خود پیغام بھیجا کہ ہم کو صرف ہماری جانوں کی امان دی جائے مال و اسبابسے ہم کو سروکار نہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اس درخواست کو منظور فرما لیا چونکہ فدک پر حملہ نہیں کیا گیا اور نہ اس پر کسی سوار و پیادے کو تلوار یا نیزہ چلانے کا موقعہ ملا تھا لہذا بلا تقسیم جیسا کہ خدائے تعالی کا حکم تھا اللہ ۱؎ صحیح بخاری میں تو بالتو گدھے کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو : کتابالنکاححدیث۵۱۱۵۔سیرت ابن ہشام ص ۴۵۹۔ ۲؎ صحیحبخاریکتابالنکاححدیث۵۱۱۵و۵۱۱۹۔ ۳؎ ایضاًکتابالطبحدیث۵۷۷۷۔زاد المعاد بحوالہ الرحیق المختوم‘ ص ۵۱۱ و ۵۱۲۔ سیرت ابن ہشام‘ ص ۴۶۴۔ ۴؎ صحیح یہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئی تھی۔ اور اسے بطور قصاص قتل کیا گیا۔ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مال سمجھا گیا اور ملکیت بیت المال قرار دیا گیا۔ خیبر سے روانہ ہو کر وادی القریٰ کی طرف لشکر اسلام آیا تو وہاں کے یہودیوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کی‘ چنانچہ ان کا بھی محاصرہ کیا گیا اور آخر انہوں نے بھی نصف بٹائی پر جیسا کہ خیبر والوں نے اطاعت قبول کی تھی اطاعت قبول کر لی‘ ۱؎وادی القریٰ میں صرف ایک صحابی سیدنا مدعم رضی اللہ عنہ شہید ہوئے‘ ۲؎وادی القریٰ کے قریب تیما یہودیوں کا ایک مقام تھا انہوں نے بھی وادی القریٰ والوں کی طرح