تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں اور قرآن مجید کی آیتیں سن کر بے تابانہ کہا کہ اے میری قوم! تم جس مقصد کے لئے مدینہ سے آئے ہو باللہ تعالیٰ یہ چیز اس سے اچھی ہے‘‘ امیر وفد انس بن رافع نے ایاس بن معاذ کو ڈانٹا اور کہا ہم اس کام کے لئے نہیں آئے‘ ایاس خاموش ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے خاموش اٹھ کر چلے آئے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کا وفد ناکام مکہ سے واپس آ گیا‘ اور کوئی معاہدہ قریش سے نہ ہو سکا‘ مدینہ میں جا کر چند روز کے بعد سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ بن معاذ کا انتقال ہوا اور انہوں نے مرنے سے پہلے اپنے اسلام اور ایمان کا اظہار فرمایا۔۲؎ ضماد ازدی ضمادازدی عرب کا مشہور افسوں گر اور یمن کا باشندہ تھا وہ ایک مرتبہ مکہ میں آیا ‘ یہاں قریش سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر جنات کا اثر ہے‘ بولا کہ میں اپنے منتر سے ابھی اس شخص کا علاج کئے دیتا ہوں‘ چنانچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں تم کو اپنا منتر سناتا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے سن لو پھرتم سنانا‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے خطبہ کے ابتدائی کلمات اس طرح شروع کئے۔ ۱؎ تاریخ ابن ہشام‘ صفحہ ۲۱۰۔ ۲؎ ایضاً الحمدللہنحمدہونستعینہمنیھداللہفلامضللہومنیضللہفلاھادیلہواشھدانلاالہالااللہوحدہلاشریکلہواشھدانمحمداعبدہورسولہ۔۱؎امابعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی قدر الفاظ ابھی بیان فرمائے تھے کہ ضماد بے اختیار بول اٹھا‘ یہی کلمات پھر دوبارہ بیان کیجئے‘ چنانچہ کئی مرتبہ اس نے یہی کلمات آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پڑھوائے اور پھر کہا کہ میں نے بہت سے کاہن‘ ساحر‘ شاعر دیکھے‘ اور ان کا کلام سنا لیکن ایسا جامع و مانع اور لطیف و بلیغ کلام کبھی نہیں سنا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا اپنا ہاتھ بڑھائیے میں مسلمان ہوتا ہوں اور اسلام کے لئے بیعت کرتا ہوں۔۲؎ طفیل بن عمر و دوسی رضی اللہ عنہ نواح یمن میں قبیلہ دوس آباد تھا‘ اس قبیلہ کا سردار طفیل بن عمرو رئوسا یمن میں شمار ہوتا تھا‘ طفیل علم و دانش مندی کے علاوہ بہت مشہور اور زبردست شاعر بھی تھا اسی سال یعنی ۱۱ نبوی میں وہ اتفاقاً مکہ کی طرف آیا‘ طفیل بن عمرو کے آنے کا حال سن کر سردار ان قریش استقبال کے لئے مکہ سے باہر نکلے اور بڑی عزت و تعظیم کے ساتھ شہر میں لائے‘ قریش کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے طفیل کی ملاقات نہ ہو جائے‘ اور طفیل پر ان کا جادو نہ چلے‘ چنانچہ انہوں نے مکہ میں داخل ہوتے ہی طفیل سے کہا کہ آج کل ہمارے شہر میں ایسا جادو گر پیدا ہو گیا ہے جس نے تمام شہر کو فتنہ میں ڈال دیا ہے‘ باپ بیٹے سے‘ بیٹا باپ سے‘ بھائی بھائی سے اور خاوند بیوی سے جدا ہو گیا ہے‘ آپ چونکہ ہمارے معزز مہمان ہیں لہذا آپ بھی احتیاط رکھیں اور کوئی کلمہ اس ساحر یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے نہ سنیں‘ قریش کے بار بار اور باصرار خوف دلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ طفیل نے اپنے کانوں میں