تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بیان نہ کیا‘ اپنے روپے فراہم کرانے میں سب سے مدد لی‘ تمام روپے لے کر اور صرف عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو چلتے وقت فتح خیبر کا اصل حال سنا کر مکہ سے روانہ ہو گئے‘ اس کے بعد کفار کو حجاج کے مسلمان ہونے اور خیبر میں مسلمانوں کے کامیاب و فتح مند ہونے کا حال معلوم ہوا تو وہ کف افسوس ملتے تھے اور حجاج کے اس طرح معہ دولت صاف نکل جانے پر اور بھی زیادہ متاسف تھے۔۱؎ خیبر سے واپس مدینہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تمام قبائل کی طرف جو مسلمانوں کی بیخ کنی کی کوششوں اور سازشوں میں لگے ہوئے تھے ایک ایک دستہ فوج ادب آموزی اور رعب قائم کرنے کے لیے روانہ کیا‘ تاکہ کوئی بڑی بغاوت اور خطرناک سازش سر سبز نہ ہونے پائے۔ چنانچہ نجد کے قبیلہ فزارہ کی جانب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ کئے گئے‘۲؎ قوم ہوازن کی طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تیس سواروں کے ساتھ روانہ کیا گیا‘ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو تیس شتر سواروں کے ہمراہ بشر بن زرام یہودی کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا‘ جو خیبر کے یہودیوں کو بغاوت پر آمادہ کر رہا تھا‘ بشیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ تیس سواروں کے ساتھ بنی مرہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کئے گئے‘ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کے ساتھ قوم جہنیہ کے ایک قبیلہ حرقات کی طرف بھیجا گیا‘ سیدنا غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ لیثی کو ایک جماعت کے ساتھ قوم بنی الملوح کی تادیب کے لیے بھیجا گیا‘ سیدنا ابی حدرو اسلمی کو صرف تین آدمیوں کے ساتھ قبیلہ حشم بن معاویہ کے سردار رفاعہ بن قیس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا گیا‘ سیدنا ۱؎ سیرت ابن ہشام ص ۴۶۸ و ۴۶۹۔ ۲؎ صحیحمسلمکتابالجھادبابالتنفیل۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور محلم بن جثامہ کو مقام اضم کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ تمام فوجی دستے کامیاب و فتح مند واپس ہوئے اور ہر جگہ مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوئی‘ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے لڑائی میں جب ایک شخص کے قتل کو تلوار اٹھائی تو اس نے لا الہ الا اللہ کہا مگر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم بہت ناراض ہوئے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے جواب طلب کیا گیا‘ انہوں نے عرض کیا کہ اس شخص نے دھوکہ دینے اور اپنی جان بچانے کے لیے لا الہ الا اللہ کہا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ منافقت سے کلمہ پڑھتا ہے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے توبہ کی اور آئندہ ساری عمر اس قسم کی غلطی سے محترز رہنے کا وعدہ کیا۔۱؎ اسی طرح ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور محلم رضی اللہ عنہ بن جثامہ چلے جا رہے تھے کہ قوم اشجع کا ایک شخص عامر بن اصنبط جو اپنے مال و متاع کے ساتھ سفر کر رہا تھا ملا‘ عامر بن اصنبط نے اس اسلامی لشکر کو دیکھ کر اسلامی طریق پر السلام علیکم کہا مسلمانوں نے دشمن قبیلے کے ایک شخص کو اس طرح سلام کرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ڈر کے مارے السلام علیکم سے فائدہ اٹھانا چاہا ہے‘ چنانچہ اس کو جواب دینے اور وعلیکم السلام کہنے میں سب کو تامل ہوا‘ اور