تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
رہنے کو تمدن اور اس انسانی مجمع کو مدینہ اور ان مختلف حالتوں کو جو طبعاً اس کو عارض ہوں‘ واقعات تاریخ‘ اور پچھلوں کے پہلوں سے سن کر ان واقعات کو اکٹھا کرنے اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کی عبرت اور نصیحت کے لیے بطور نمونہ چھوڑ جانے کو تاریخ کہتے ہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ ’’تاخیر‘‘ کے جزو آخر کو مقلوب کر کے لفظ ’’تاریخ‘‘ بنایا گیا ہے اور تاخیر کے معنیٰ ہیں اولین وقت کو آخرین وقت کے ساتھ نسبت دینا مثلاً یہ بتلانا کہ فلاں مذہب‘ یا فلاں سلطنت یا فلاں معرکہ فلاں وقت میں ظاہر ہوا تھا جو واقعات خاص اس وقت میں ظہور پذیر ہوئے ان سب کے معلوم کرنے کا مبدء یہی وقت ہوتا ہے‘ غرض اسی طرح تاریخ کی تعریف بیان کرنے میں بڑی بڑی موشگافیاں کی گئی ہیں‘ لیکن خلاصہ اور حاصل مطلوب سب کا وہی ہے جو اوپر سب سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
اس مذکورہ خلاصہ کا اور بھی خلاصہ کرنا مقصود ہو تو یوں کہہ سکتے ہیں ‘ جو حالات و اخبار بقید وقت لکھے جاتے ہیں ان کو تاریخ کہتے ہیں۔
تاریخ کی ضرورت
تاریخ ہم کو بزرگوں کے حالات سے واقف کر کے دل و دماغ میں ایک بابرکت جوش پیدا کر دیتی ہے‘ انسانی فطرت میں ایک خاص قسم کی پیاس اورخواہش ہے جو ممالک کی سیاحی‘ باغوں کی سیر اور کوہ و صحرا کے سفر پر آمادہ کر دیتی ہے یہی فطری تقاضا ہے جو بچوں کو رات کوچڑے چڑیا کی کہانی اور جوانوں کو طوطا مینا کی داستان سننے پر آمادہ کرتا ہے‘ اوریہی تقاضا ہے جو {فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} ۱؎ کے حکم کی تعمیل اور تاریخی کتابوں کے مطالعہ کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے‘ اس فطری تقاضے پر نظر فرما کر فطرتوں کے خالق نے کتب سماویہ میں چاشنی رکھی ہے‘ نبی اسرائیل کیسی عظیم الشان قوم تھی کہ {نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ} ۲؎ تک کہہ گذرے‘ لیکن جب اپنے بزرگوں کے حالات سے بے خبر ہوتے گئے‘ قعر مذلت میں گرتے گئے‘ اسی لیے خدائے تعالے نے {یٰـآ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اذْکُرُوْا} ۳؎ کے الفاظ سے بار بار ان کو مخاطب فرمایا اور ان کے بزرگوں کے حالات کو یاد دلایا۔
تاریخ کے فوائد
تاریخ کا مطالعہ حوصلہ کو بلند کرتا‘ ہمت کو بڑھاتا‘ نیکیوں کی ترغیب دیتا‘ اور بدیوں سے روکتا ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے دانائی اور بصیرت ترقی کرتی‘ دور اندیشی بڑھتی‘ حزم اور احتیاط کی عادت پیدا ہو جاتی ہے‘ دل سے رنج و غم دور ہو کر مسرت و خوشی میسر ہوتی ہے تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرنے والوں میں احقاق حق‘ اور ابطال باطل کی قوت ترقی کرتی ہے اور قوت فیصلہ بڑھ جاتی ہے۔ تاریخی مطالعہ سے صبر و استقلال کی صفت پیدا ہوتی ہے اور دل و دماغ میں ہر وقت تازگی اور نشوونمائی کی کیفیت موجود رہتی ہے۔
غرض کہ علم تاریخ ہزاروں واعظوں کا ایک واعظ اور عبرت آموزی کا ایک بہترین ذریعہ ہے تاریخی مطالعہ کے ذریعہ انسان ہر وقت اپنے آپ کو بادشاہوں‘ فاتحوں‘ رسولوں‘ دلیوں‘ حکیموں‘ عالموں اورباکمالوں کی مجلس میں موجود دیکھتا ہے اور ان تمام معززین سے استفادہ کرتا ہے بڑے بڑے بادشاہوں ‘ وزیروں‘ سپہ سالاروں اور حکیموںسے جو غلطیاں سرزد ہوئیں یہ ان سے محفوظ رہ سکتا ہے‘ کوئی علم ایسا نہیں ہے جس کے مطالعہ کو انسان اس قدر مسرت اور شادمانی کے ساتھ بلا کسی قسم کی کوفت و ماندگی