تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا کہ جو میرا دوست ہے وہ علی رضی اللہ عنہ کا دوست ہے‘ اور جو علی رضی اللہ عنہ کا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس تقریر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مبارکباد دی‘ اور فرمایا کہ آج سے آپ رضی اللہ عنہ میرے خصوصی دوست ہوئے‘ ۴؎مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صاحبزادہ ابراہیم نے انتقال فرمایا۔ ۱؎ صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم ۔ ۲؎ ’’اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے حمد اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ ۳؎ ’’آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کیا۔‘‘ (المائدہ : ۵/۳) ۴؎ کافی تلاش کے باوجود یہ روایت کسی کتب حدیث میں نہیں مل سکی۔ ہجرت کا گیارہواں سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی علالت محرم ۱۱ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بخار آیا اور بڑھتا گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی علالت کی خبر مشہور ہوئی تو بعض مفسدوں نے سر اٹھایا‘ مسیلمہ‘ طلیحہ‘ خویلد‘ اسود‘ سجاح بنت حارث نے الگ الگ نبوت کا دعویٰ کیا‘ ان لوگوں نے سمجھا کہ جس طرح سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کامیاب ہوئے اسی طرح ہم بھی کامیاب ہو جائیں گے‘ مگر اللہ تعالیٰ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت پر ایک اور مہر کر دی کہ یہ سب کے سب ناکام‘ مخذول اور خاسر ہوئے ان میں مسیلمہ کذاب‘ یمامہ میں اور اسود بن کعب عنسی یمن میں زیادہ مشہور ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بیماری کی حالت میں ایک روز باہر تشریف لائے اور درد سر کی وجہ سے سر پر ایک پٹی باندھے ہوئے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رات خواب میں دیکھا ہے کہ میری کلائی میں دو کنگن سونے کے ہیں‘ میں نے ان کو نامطبوع سمجھ کر پھینک دیا‘ اس خواب کی میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ یہ دونوں کنگن یہی دونوں کذاب یعنی صاحب یمامہ(مسیلمہ کذاب) اور صاحب یمن (اسود کذاب) ہیں۔۱؎ چنانچہ اسود کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی ہی میں فیروز نامی ایک مرد مبارک کے ہاتھ سے مارا گیا اور مسیلمہ کذاب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وحشی قاتل سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ہلاک ہوا‘ وحشی کہا کرتا تھا کہ میں نے حالت کفر میں ایک بہترین انسان کو اور حالت اسلام میں ایک بدترین انسان کو قتل کیا۔ بستر علالت سے جہاد فی سبیل اللہ ۲۶ ماہ صفر ۱۱ ھ کو بیماری سے کسی قدر افاقہ محسوس ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شام و فلسطین کی سرحدوں کی خبریں سن کر جنگ روم کی تیاری کا حکم دیا‘