تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
لیکن ابوعبیدبن مسعود رضی اللہ عنہ جو لشکر عراق کے سپہ سالار اعظم بنا کر بھیجے گئے تھے راستے کے عرب قبائل سے بھی لوگوں کو اپنے ہمراہ لیتے اور قیام کرتے ہوئے گئے‘ اس لیے وہ عراق میں مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ایک ماہ بعد پہنچے‘ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حیرہ میں پہنچ کر دیکھا کہ ایرانیوں نے تمام رئوساء عراق کو مسلمانوں کی مخالفت پر آمادہ کر دیا ہے‘ ایران کے دربار مدائن میں خراسان کا گورنر رستم آ کر قابو یافتہ ہو گیا ہے‘ اس نے فوجی تنظیم اور انتظامی سر رشتوں کو خوب مضبوط کر لینے کے علاوہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ کر لینے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے ‘ سواد اور حیرہ کے مرزبان لڑائی کے لیے تلے ہوئے بیٹھے ہیں۔ مثنٰی رضی اللہ عنہ کے پہنچنے پر رستم نے ایک زبردست فوج مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کو روانہ کی‘ دوسری زبردست فوج شاہی خاندان کے ایک بہادر اور تجربہ کار سپہ سالار نرسی کے ماتحت مقام کسکر کی جانب بھیجی اور تیسرا عظیم الشان لشکر جابان نامی سردار کے ماتحت نشیبی فرات کی سمت روانہ کیا‘ جس نے مقام نمارق میں آ کر چھائونی ڈال دی۔ سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے حیرہ سے نکل کر مقام خفان میں قیام کیا‘ اتنے میں ابوعبید بن مسعود پہنچ گئے‘ انہوں نے تمام فوج کی سپہ سالاری اپنے ہاتھ میں لے کر مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو سواروں کی سرداری سپرد کر کے مقام خفان ہی میں چھوڑا اور خود مقام نمارق میں جابان پر حملہ آور ہوئے‘ بڑی خون ریز جنگ ہوئی‘ آخر ابوعبید رضی اللہ عنہ نے بذات خود اللہ اکبر کہہ کر لشکر ایران پر نہایت سخت حملہ کیا اور ان کی صفوں کو درہم برہم کر کے جمعیت کو منتشر کر دیا‘ مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار کی اقتدا میں جی توڑ کر ایسے شیرا نہ و جواں مردانہ حملے کئے کہ ایرانی میدان خالی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ ایرانی سپہ سالار جابان کو اسلامی لشکر کے ایک بہادر مطر بن فضہ ربیعی نے گرفتار کر لیا‘ جس کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ سپہ سالار ہے‘ جابان نے اس سے کہا کہ تم مجھ کو گرفتار کر کے کیا کرو گے‘ میں تم کو دو نہایت قیمتی غلام دوں گا‘ مجھ کو تم امان دے دو‘ مطر نے اس کو امان دے کر چھوڑ دیا‘ جب وہ چھوٹ کر چلا توایک اور شخص نے اس کو پہچان کر گرفتار کر لیا اور سیدنا ابوعبید بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لایا کہ ایرانی سپہ سالار ہے‘ اس نے دھوکہ دے کر امان حاصل کی تھی‘ سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ نے مطر بن فضہ کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے اس کو امان دی ہے‘ ابوعبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ایک مسلمان نے اس کو امان دے دی ہے تو اب اس کے خلاف عمل درآمد کرنا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہو سکتا‘ یہ کہہ کر جابان کو بہ حفاظت میدان جنگ سے رخصت کر دیا‘ جابان وہاں سے روانہ ہو کر اپنی مفرور فوج سے جا ملا اور یہ تمام فراری مقام کسکر میں نرسی کے پاس پہنچے۔ فتح کسکر نرسی پیشتر سے تیس ہزار فوج لیے ہوئے کسکر میں مقیم تھا‘ اب جابان اور اس کی ہزیمت خوردہ فوج بھی اس کے پاس آ گئی‘ دربار ایران کو جب جابان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو رستم نے مدائن سے ایک عظیم الشان فوج جالنیوس نامی سردار کی سرکردگی میں نرسی کی امداد کے لیے کسکر کی جانب روانہ کی‘ مگر سیدنا ابوعبیدبن مسعود