تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پیش لفظ!
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٭ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٭ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ٭ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ٭ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ٭ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ٭ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْن} اللھم صل علی محمد و علٰی ال محمد کما صلیت علٰی ابراھیم و علٰی ال ابراھیم انک حمید مجید اما بعد رب اشرح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی۔
لا الہ الا اللہ
تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر زمانے میں جس قدر نبی‘ مصلح‘ پیشوا اور بانیان مذاہب گذرے ہیں‘ وہ سب کے سب ایک ذات واجب الوجود۱؎ کے قائل و معتقد تھے اور سب نے اپنی اپنی جماعت کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ سیدنا آدم علیہ السلام ‘ سیدنا نوع علیہ السلام ‘ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ‘ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ‘ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانوں میں اگرچہ سینکڑوں ‘ ہزاروں برس کے فاصلے ہیں‘ لیکن سب کی تعلیم میں توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ مشترک ہے۔
کرشن جی‘ رامچندر جی‘ گوتم بدھ اورگورونانک ہندوستان میں ہوئے‘ کیقبادو زرتشت ایران میں گذرے‘ کنفیوسس چین میں‘ سیدنا لقمان یونان میں‘ سیدنا یوسف علیہ السلام مصر میں‘ سیدنا لوط علیہ السلام شام و فلسطین میں تھے‘ لیکن توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ سب کی تعلیمات میں موجود ہے۔۲؎
۱؎ کرشن جی‘ رام چندر جی‘ گوتم بدھ‘ گورونانک‘ کیقباد‘زرتشت اور کنفیوشش کی تعلیمات میں توحید پسند ذہن موجود تھا لیکن عملی طور پر ان شخصیات نے عقیدئہ توحید کی نفی ہی کی ہے اور لوگوں کو شرک کی طرف بلایا ہے۔ توحید تو صرف اسلام ہی کا حصہ ہے۔ اگر مختلف مذاہب کے ان متذکرہ بانیان کے بعض خیالات و تعلیمات کو ہم توحید سے متصف کریں تو پھر مشرکین عرب کو بھی توحید پرست ثابت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ ورنہ مشرکین مکہ کے بعض اعترافات و خیالات کی گواہی خود قرآن کریم نے دی تو ہے لیکن انہیں مشرکین ہی کہا ہے۔
۱؎ یعنی ایک ہی معبود حقیقی۔ یہاں‘ جیسا کہ صوفیا یہ مراد لیتے ہیں‘ خبیث ترین اور مشرکانہ عقیدوں میں سے ایک نظریہ ’’وحدت الوجود‘‘ کی رو سے ایک ہی وجود کا معنیٰ لینا شدید ترین گمراہی ہے‘ اعاذنا اللہ منہ!
دنیا کے قریباً تمام آدمی ‘ بچے‘ بوڑھے ‘ جوان‘ عورت‘ مرد‘ عیسائی ‘ یہودی وغیرہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں‘ یا صرف چند جو کسی قطار میں نہیں آ سکتے‘ ممکن ہے ایسے بھی مل سکیں جو اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کا انکار کریں مگر دل ان کے بھی ہستیٔ باری تعالیٰ کے اقرار پر مجبور ہیں اور ان کو بالآخر یہ ضرور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ علل و معلول کسی مدبر بالارادہ کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی مدبر بالارادہ ہستی کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔
بہ لوحے گرہزاراں نقش پیدا است
نیاید بے قلمزن یک الف راست
دنیا کے اس عظیم الشان اتفاق کے انکار اور تمام اہل دانش و بینش کے متفقہ عقیدے کی تغلیط و تردید پر کوئی شخص جو دیوانہ نہ ہو آمادہ نہیں ہو سکتا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم