تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۱؎ سیرت ابن ہشام‘ صفحہ ۸۴ تا ۸۶۔ ۲؎ صحیحمسلم۔کتابالایمانبابالاسرأ۔ صلی اللہ علیہ و سلم کی طفولیت کا زمانہ عرب کے دوسرے لڑکوں کی نسبت بہت ہی عجیب گذرا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو لڑکوں میں کھیلنے اور آوارہ پھرنے کا مطلق شوق نہ تھا‘ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی صحبت سے بیزار اور دور و نفور ہی رہتے اور خلوت کو زیادہ پسند کرتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہررذیل خصلت اور خسیس عادت سے محفوظ و مامون رکھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم چند نوجوانان قریش کے ساتھ کسی شادی کی مجلس میں جانے اورشریک ہونے کے لیے مجبور کئے گئے جہاں رقص و سرود کا ہنگامہ بھی تھا‘ جو نہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجلس میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یکایک نیند آ گئی‘ تمام رات اسی طرح سوتے رہے یہاں تک کہ رات ختم ہونے پر مجلس برخاست ہوئی اور لوگ منتشر ہو گئے تب کہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ کھلی اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجلس مکروہات میں کوئی حصہ نہ لے سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر غالباً سات برس کی تھی کہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر جس کو سیلاب نے نقصان پہنچا دیا تھا‘ دوبارہ شروع کی‘ اس تعمیر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی پتھر ڈھوتے اور اٹھا اٹھا کر معماروں کو دیتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تہبند باندھ رکھا تھا جو چلنے پھرتے اور پتھر اٹھا کر لے جانے میں کسی قدر دقت پیدا کرتا تھا‘ چونکہ سات برس کی عمر کے بچے کا ننگا پھرنا وہ لوگ کچھ معیوب نہ جانتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تہبند کی دقت سے آزاد کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ کہے بغیر تہبند کا سرا پکڑ کر جھٹکا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ننگا کر دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس قدر شرم و حیا رکھتے تھے کہ ننگے ہوتے ہی بیہوش ہو گئے اور لوگوں کے سامنے اپنے ننگے ہونے کو برداشت نہ کر سکے‘ سب کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس شرم و حیا کے معلوم ہونے سے تعجب ہوا‘ اور فوراً تہبند باندھ دیا گیا۔۱؎ پہلا سفر شام آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر بارہ سال کی تھی کہ ابوطالب ایک تجارتی قافلہ کے ہمراہ کچھ مال تجارت لے کر شام کی طرف جانے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مکہ ہی چھوڑنا چاہا‘ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ابوطالب کی کفالت میں آ کر ہمہ وقت ان کے ساتھ رہتے تھے اس لیے اس جدائی کو برداشت نہ کر سکے‘ ابوطالب نے بھتیجے کی دل شکنی گوارا نہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اپنے ہمراہ ملک شام کی طرف لے گئے۔ ملک شام کے جنوب مشرقی حصہ میں ایک مقام بصری ہے‘ جب قافلہ وہاں پہنچا تو ایک عیسائی راہب نے جو وہاں رہتا تھا اور جس کا نام بحیرہ تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور پہچان لیا کہ یہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم