تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
شیبہ کو قتل کر دیا‘ اور عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے‘ ۲؎اس کے بعد کفار کی صفیں حملہ آور ہوئیں‘ ادھر سے مسلمانوں نے حرکت کی اور جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی‘ طرفین سے خوب خوب داد مردانگی دی گئی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار اپنے ستر بہادروں کو قتل‘ اور ستر کو اسیر کرا کر میدان سے بھاگ نکلے‘ جنگ مغلوبہ شروع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک سائبان کے نیچے کھڑے ہوئے معرکہ جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے‘ اور مجاہدین کو مناسب احکام و ہدایات دے رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ بنو ہاشم کے جو لوگ کفار کے ساتھ آئے ہیں وہ اپنی خوشی سے نہیں آئے ہیں بلکہ مجبوراً ان کو آنا پڑا ہے‘ اس لیے ان کے ساتھ رعایت کرنی چاہیے‘ اور عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کو قتل نہیں کرنا ۱؎ انصار کی کل تعداد ۲۴۰ سے زائد تھی جبکہ چھوٹے بڑے سب ملا کر مسلمانوں کی تعداد ۳۱۹ تھی۔ ملاحظہ ہو : صحیحمسلم۔کتابالجھادبابالامدادفیالملئکۃ۔ ۲؎ تاریخ ابن ہشام ص ۳۰۴ و ۳۰۵۔ چاہیے‘ اسی طرح ابوالنجتری کی نسبت درگذر اور رعایت کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کو سن کر ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے بھائی کو قتل کروں اورعباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دوں اگر عباس رضی اللہ عنہ میرے مقابلہ پر آیا تو میں درگذر نہیں کروں گا‘ بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے ان الفاظ پر بہت پشیمان ہوئے اور ندامت کا اظہار کیا۔۱؎ مجذربن زیاد رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ابوالنجتری سے ہوا تو مجذربن زیاد نے کہا کہ ہم کو حکم ہے تم سے نہ لڑیں‘ لہذا تم ہمارے سامنے سے ہٹ جائو‘ ابوالنجتری نے اپنے ایک ساتھی کو بچانے کی کوشش کی جس کو مجذر بن زیاد قتل کرنا چاہتے تھے‘ اس کوشش میں ابوالنجتری مقتول ہوا۔ امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا علی بن امیہ دونوں اپنی جان بچانے کے لیے سراسیمہ پھر رہے تھے‘ امیہ اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان عہد جاہلیت میں دوستی تھی۔ عبدالرحمن بن عوف نے ان کو پریشان دیکھ کر اپنی حفاظت میں لے لیا اور امیہ کا ہاتھ پکڑ کر لے چلے‘ لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فوراً آواز دے کر چند انصار کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب نے مل کر امیہ اور علی کو قتل کرنا چاہا‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ہر چند بچانے کی کوشش کی مگر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی ایک بات نہ مانی اور دونوں باپ بیٹوں کو قتل ہی کر کے چھوڑا۔۲؎ ایک صحابی رضی اللہ عنہ عمیر ابن الحمام انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کھجوریں کھاتے ہوئے آئے اور پوچھا کہ اگر میں کفار سے لڑتا ہوا مارا جائوں تو فوراً جنت میں چلا جائوں گا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں‘ وہ اسی وقت اپنے ہاتھ کی بقیہ کھجوریں پھینک کر اور تلوار کھینچ کر دشمنوں پر جا پڑے اور لڑ کر شہید ہوئے۔۳؎ جب لڑائی خوب زور شور سے جاری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مٹی بھر کر خاک اٹھائی اور اس پر کچھ دم کر کے کفار کی طرف پھینک دی‘ اسی وقت کفار کے لشکر نے بھاگنا شروع کیا‘ ایک نوعمر انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن