تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کر دیا‘ تو زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم پرذرا سی دیر کے لیے یکایک غنودگی طاری ہوئی۔۲؎ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا کہ کفار کی فوج کو شکست ہو گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے {سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ}۳؎ (القمر : ۵۴/۴۵ و ۴۶)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دے دیا تھا کہ تم جنگ میں ابتداء نہ کرنا‘ مسلمانوں میں اسی یا اسی سے دو تین زیادہ مہاجر تھے باقی انصار ۴؎ تھے‘ ................................................
۱؎ تاریخ ابن ہشام ‘ ص ۳۰۳۔ ۲؎ یہ نزول وحی کی علامت تھی۔
۳؎ صحیحبخاریکتابالجھادحدیث۲۹۱۵۔صحیحمسلمکتابالجھادبابالامدادبالملئکۃ۔سیرت ابن ہشام ص ۳۰۵ و ۳۰۶۔
۴؎ ابن ہشام نے ’’سیرت ابن ہشام‘‘ میں جنگ بدر میں شریک ہونے والے تمام انصاری اور مہاجر صحابہ رضی اللہ عنھم کے نام درج کیے ہیں۔ نیز جو صحابہ رضی اللہ عنھم اس جنگ میں شہید ہوئے یا جو کفار قتل ہو کر جہنم رسید ہوئے یا قید ہوئے‘ ان سب کے نام مع ان کی خاندانی یا قبائلی نسبتیں تفصیل کے ساتھ تحریر کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو : ص ۳۳۳ تا ۳۵۸۔
انصار؎۱ میں ۶۱ قبائل اوس کے آدمی تھے‘ ۱۷ خزرج کے‘ طرفین سے صفوف جنگ آراستہ ہوئیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں ایک تیر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے اشارہ سے تسویہ صفوف فرماتے تھے۔
اس کے بعد لشکر کفار سے رسم عرب کے موافق اول عتبہ و شیبہ پسران ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکل کر میدان میں آ گئے اور جنگ مبارزت کے لیے للکار کر لشکر اسلام سے اپنے مقابلہ کرنے کے لیے انصار کے تین شخص‘ عوف رضی اللہ عنہ ‘ معوذ رضی اللہ عنہ ‘ پسران عفراء اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نکلے‘ عتبہ نے کہا‘ من انتم (تم کون ہو؟) انہوں نے جواب دیا (رھط من الانصار) ’’ہم انصار یعنی اہل مدینہ میں سے ہیں۔‘‘
عتبہ نے نہایت متکبرانہ انداز اور درشت لہجہ میں کہا مالنا بکم من حاجۃ (ہم کو تم سے لڑنے کی ضرورت نہیں) پھر چلا کر کہا محمد اخرج الینا اکفاء نامن قومنا‘ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے مقابلے کے لیے ہماری ذات برادری کے لوگوں کو (یعنی قریش میں سے مہاجرین کو) بھیجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر حکم دیا کہ عتبہ کے مقابلہ کو حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب اور عتبہ کے بھائی شیبہ کے مقابلے کو عبیدہ بن الحرث اور عتبہ کے بیٹے ولید کے مقابلہ کو علی بن ابی طالب جائیں‘ یہ حکم سنتے ہی بلاتامل تینوں صحابی میدان میں نکلے‘ عتبہ نے ان تینوں کے نام دریافت کئے‘ حالانکہ وہ ان تینوں کو خوب جانتا تھا‘ ان کے نام سن کر کہا کہ ہاں تم سے لڑیں گے‘ مقابلہ شروع ہوا‘ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اورسیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عتبہ اور ولید دونوں باپ بیٹے کو ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ شیبہ اور عبیدہ دونوں نے ایک دوسرے کو زخمی کر دیا‘ سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ زخم بہت کاری لگا جس سے وہ جان بر نہ ہو سکے‘ یہ دیکھ کر سیدنا حمزہ‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر