ملفوظات حکیم الامت جلد 24 - یونیکوڈ |
|
کوئی کمال نہیں ۔ آصل کمال راجع بننے میں ہے یعنی اللہ کی طرف رجوع ہونے والا بنے ۔ پھر وہ
چاہیں کسی کو مرجع بھی بناویں یا نہ بناویں ۔ دونوں میں خیر ہی خیر ہے جو حالت پیش آ جائے اس پر
راضی اور شاکر رہنا چاہیے ۔
ایک انگریز مؤرخ
نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت زیادہ تر صوفیاء اور تاجروں کے ذریعہ ہوئی ہے ۔
اجمیر شریف
فرمایا کہ اجمیر شریف کی حاضری احمد آباد جاتے ہوئے بمعیت حضرت مولانا خلیل احمد
صاحبؒ ہوئی ۔ تو معنوی طور پر شاہانہ دربار معلوم ہوتا تھا ۔ ہر در و دیوار انوار سے معمور نظر آتے تھے ۔
علماء کا باہمی اختلاف رائے
مولانا عبد الحق خیر آبادی اور مولانا عبد الحی صاحب لکھنویؒ کے درمیان چند مسائل میں علمی
اختلاف تھا ۔ بعض لوگوں نے مولانا عبد الحی صاحبؒ کے سامنے مولانا عبد الحق صاحب کا ذکر
برائی سے کیا تو مولانا نے ان کو ڈانٹ کر خاموش کر دیا ۔
حضرت شاہ ولی اللہ کا ارشاد
حضرت شاہ صاحبؒ نے فیوض الحرمین میں فرمایا ہے کہ چند چیزوں میں میری طبیعت کے
خلاف مجھے حضورؐ نے مجبور فرمایا ۔ ایک یہ کہ مجھے طبعی طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تفصیل
مرغوب تھی ۔ آپ نے شیخین کو ان پر ترجیح دینے کے لئے مجبور فرمایا ۔ دوسرے یہ کہ مجھے تقلید سے
طبعا نفرت تھی آپ نے مذاہب اربع سے خروج کو منع فرمایا ۔