ملفوظات حکیم الامت جلد 24 - یونیکوڈ |
|
گرچہ رخنہ نیست عالم را پدید خیرہ یوسف و ارمی باید دوید
شعبان و رمضان 1349 ھ
ایک سلسلہ کلام میں فرمایا ؎
چون تو یوسف نیستی یعقوب باش ہمچو اورد گریہ آشوب باش
یعنی سالک طریق کو ابن الحال ہونا چاہیے ۔ پیش آنے والے حال کی رعایت اس کے لئے اہم
ہے ۔
صفات الہیہہ میں لاعین ولا غیر کی تشریح
حضرت متکلمین نے اللہ تعالی کی صفات کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ نہ عین ذات ہیں نہ غیر ۔
حضرتؒ نے فرمایا کہ اس میں عین سے مراد اصطلاحی منطق کا عین ہے یعنی بالکل عین ذات ہونا
اور غیر سے مراد غیر عرفی ہے یعنی بیگانہ و بے تعلق ۔ تو حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالی کی صفات اس کی عین
ذات نہیں ہیں مگر بالکل غیر اور بیگانہ و بے تعلق بھی نہیں ہیں ۔
آیت معراج کی ایک تحقیق
شب معراج میں ایک سفر تو زمین پر ہوا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک دوسرا سفر وہاں سے
آسمانوں کی طرف ہوا ۔ مگر قرآن کی آیت اسری بعبدہ لیلا میں صرف پہلے زمینی سفر کا ذکر ہے
آسمانی سفر کا ذکر نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ آیت میں لیلا کی قید لگی ہوئی اور دن اور رات صرف اس زمینی
تضاد سے متعلق ہیں ۔ آسمانوں میں اس طرح کا دن رات نہیں جو آفتاب کے طلوع و غروب سے
متعلق ہو تو لفظ اسراء اور لیل کے مقتضی سے صرف زمین سفر کے ذکر پر اکتفاء کیا ۔ اور سورہ نجم
میں آسمانی سفر کا ذکر فرمایا ۔ عند سدرۃ المنتھی ۔
ایک اہم نصیحت
فرمایا کہ بہت سے لوگوں کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہم مرجع خلائق بنیں ۔ خوب سمجھ لو کہ مرجع بننا