تاریخ اسلام جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اللہ عنہ پر لعنت بھیجے گا اور اے طلحہ رضی اللہ عنہ کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے بیعت کی تھی‘ لیکن میری گردن پر تلوار تھی‘ یعنی میں نے مجبوراً بیعت کی تھی اور وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے ساتھ مشروط تھی۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے‘ اور کہا کہ کیا تم کو وہ دن یاد ہے‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم سے فرمایا تھا‘ کہ تم ایک شخص سے لڑوگے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے۔۱؎ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو یاد آ گیا‘ لیکن آپ نے میری روانگی سے پہلے مجھ کو یہ بات یاد نہ دلائی‘ ورنہ میں مدینہ سے روانہ نہ ہوتا اور اب واللہ میں تم سے ہرگز نہ لڑوں گا اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنے اپنے لشکر کی طرف واپس آ کر سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ اور کہا کہ آج مجھ کو علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی بات یاد دلائی ہے کہ میں ان سے کسی حالت میں لڑنا پسند نہ کروں گا‘ میرا ارادہ ہے کہ میں سب کو چھوڑ کر واپس چلا جائوں‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ بھی پہلے ہی سے اس قسم کا خیال رکھتی تھیں‘ مگر ام المومنین رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی بات کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا تھا‘ کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعر رضی اللہ عنہ نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔۲؎ عرض رضی اللہ عنہ جنگ و پیکار کے خیالات اور ارادے طرفین کے سرداروں نے بتدریج اپنے دلوں سے نکال ڈالے اور نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ۱؎ یہ حدیث ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم ابن کثیر ج ۳ ص ۴۹۳۔ ۱؎ صحیحبخاریکتابالصلوٰۃحدیث۴۴۷۔ طرف سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و طلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی