اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہے۔(معارف القرآن:۳؍۴۴۸) مذکورہ آیات میں سلام کاتذکرہ، بطور تحیہ کے تھا اور عام طور سے مومنین کا ملین کے لیے استعمال ہوا ہے،یا ادب وتہذیب سکھانے کے لیے؛ اس کے علاوہ قرآن میں یہ کلمہ انبیاء ورسل کے لیے بھی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال کیا گیا ہے؛ جس میں عنایت وتوجہ اور محبت کارس بھرا ہوا ہے، وہ آیات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱۶-وَسَلَامٌ عَلَیْْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیّاً ۔(مریم: ۱۵) اور سلام پہنچے ان پر (حضرت یحییٰ علیہ السلام) جس دن وہ پیدا کئے گئے اور جس دن دنیا سے رخصت ہوں اور جس دن (قیامت میں) زندہ ہوکر اٹھائے جائیں۔ یعنی حضرت یحییٰ علیہ الصلاۃ والسلام ایسے وجیہ اور مکرم تھے کہ ان کے حق میں، منجانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے، جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں اور جس دن(قیامت میں) زندہ ہوکر اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تین اوقات میں سلامتی کی دعا جو دی گئی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ، ان تینوں اوقات میں انسان انتہائی ضعیف اور ضرورت مند ہوتا ہے، اور اللہ کی طرف سے نصرت ، مدد اور سلامتی کا خواہاں ہوتا ہے، پیدائش اورموت کا وقت بڑا نازک ہوتا ہے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کے وقت کی نزاکت کا کیا پوچھنا۔(بدائع الفوائد:۲؍ ۱۶۸) علامہ طبریؒ کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں’’سلام‘‘ سے مشہور ومتعارف سلام مراد نہیں ہے؛ بلکہ یہ سلام امن وامان کے معنی میں ہے؛ لیکن ابن عطیہؒ نے اس رائے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اظہر قول یہ ہے کہ یہاں سلام سے وہی متعارف تحیہ مراد ہے، اور امن وامان کے مقابلہ میں یہ معنی زیادہ بہتر اور قرینِ قیاس ہے؛ کیوں کہ امن وامان کا مفہوم تو حضرت یحییٰ علیہ الصلاۃ والسلام سے عصیان کی نفی کر کے حاصل ہوجاتا ہے، شرف وسعادت تو اس میں ہے کہ اللہ انہیں سلام کریں۔ قال الطبري وغیرہ: معناہ أمان، ابن عطیہ: والأظہر عندي: أنہا التحیۃ المتعارفۃ فہي أشرف وأنبہ من الأمان؛ لأن الأمان متحصل لہ بنفي العصیان عنہ وہي أقل درجاتہ؛ وإنما الشرف في أن سلم اللہ علیہ۔ (القرطبی: ۳؍۵۸) ۱۷- سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِیْ الْعَالَمِیْنَ۔(الصافات: ۷۹) اور ہم نے ان کے لیے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے،ان کی نظر میں حضرت نوح کو ایسا معزز ومکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح علیہ السلام کے لیے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے؛ چناں چہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوںسے منسوب کرتے ہیں، سب کے سب حضرت نوح علیہ السلام کی نبوت اورتقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔(معارف القرآن:۷؍۴۴۴) ۱۸- وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ ۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ۔ (الصافات: ۱۰۸، ۱۰۹) اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کے لیے رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو۔ ۱۹- سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَہَارُون۔(الصافات: ۱۲۰) سلام ہے موسی وہارون پر۔