اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۲۰- سَلَامٌ عَلَی إِلْ یَاسِیْنَ۔ (۱) (الصافات: ۱۳۰) سلام ہے الیاس پر۔ ۲۱- وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْن۔(الصافات: ۱۸۱) اور سلام ہے رسولوں پر۔ شروع میں اللہ تعالیٰ نے کچھ پیغمبروں کے اسماء کی صراحت کر کے سلام بھیجا ہے اور اخیر آیت میں ’’المرسلین‘‘ کا لفظ استعمال کر کے جملہ انبیاء ورسل پر سلامتی بھیجی ہے؛ چناں چہ اس کا اثر دنیا میں یہ ظاہر ہوا کہ جب بھی انبیاء ورسل کے نام آتے ہیں، مسلمان اُن کے ناموں کے ساتھ’’علیہ السلام‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں، اِس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل کو لوگوں کی دعاؤں اور سلامتی کی بشارتوں کا مرکز بنادیا۔ ۲۲- قُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسَلَامٌ عَلَی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفَی۔(النمل: ۵۹) انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے کچھ حالات اور ان پر عذاب آنے کے واقعات کا ذکر کرنے کے بعد یہ جملہ نبی کریمﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: کہ آپ اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کی امت کو دنیا کے عذابِ عام سے مامون کردیا گیا ہے، اور انبیاء سابقین اور اللہ کے بر گزیدہ بندوں پر سلام بھیجیے۔ جمہور مفسرین نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے اور بعض نے اس کا مخاطب بھی حضرت لوط (۱) الیاسین بھی الیاس علیہ السلام ہی کا ایک نام ہے، اہل عرب اکثر عجمی ناموں کے ساتھ یاء اور نون بڑھادیتے ہیں جیسے سینا سے سینین، اسی طرح یہاں بھی دو حروف بڑھا دیے گئے ہیں۔ علیہ السلام کو قرار دیا ہے، اس آیت میں الَّذِیْنَ اصْطَفٰیکے الفاظ سے ظاہر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام مراد ہیں؛ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے وسلٰمٌ علی المرسلین اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام ہیں، سفیان ثوریؒ نے اسی کواختیار کیا ہے۔أخرجہ عبد بن حمید والبزار وابن جریر وغیرہم۔ اگر آیت میں الذین اصطفٰیسے مراد صحابہ کرامؓ لیے جائیں جیسا کہ ابن عباسؓ کی روایت میں ہے تو اس آیت سے غیر ابنیاء پر سلام بھیجنے کے لیے انہیں ’’علیہ السلام‘‘ کہنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ مسئلہ: اس آیت سے خطبہ کے آداب بھی ثابت ہوئے؛ کہ وہ اللہ کی حمد اور انبیاء علیہم السلام پر درود وسلام سے شروع ہونا چاہیے، رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے تمام خطبات میں یہی معمول رہا ہے؛ بلکہ ہر اہم کام کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہﷺ پر درود وسلام مسنون ومستحب ہے،کذا فی الروح۔ (معارف القرآن :۶؍۵۹۲) ۲۳- قُلْنَا یَا نَارُ کُونِیْ بَرْداً وَسَلَاماً عَلَی إِبْرَاہِیْمَ۔ (انبیاء: ۵۹) ہم نے (آگ کو) حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بے گزند ہوجا، ابراہیم کے حق میں(یعنی نہ ایسی گرم رہ جس سے جلنے کی نوبت آوے اور نہ بہت ٹھنڈی برف ہوجا ،کہ اس کی ٹھنڈک سے تکلیف پہنچے؛ بلکہ مثل ہوا ئے معتدل کے بن جا؛ چناں چہ ایسا ہی ہوگیا)