اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تشریح: اِس حدیث سے چار آدابِ نبوی معلو م ہوئے۔ (۱) بوقتِ ملاقات نبی کریمﷺ کا مصافحہ کامعمول تھا۔ (۲) دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آدمی مصافحہ کرتے وقت اپنا ہاتھ خود سے نہ کھینچے، یعنی سامنے والے کو یہ احساس نہ ہو کہ ہم اُس کی ملاقات اور مصافحہ سے اکتار ہے ہیں، یا کبیدہ خاطر ہیں یا یہ شخص مجھے حقیر اور کمتر سمجھ رہا ہے؛ بلکہ اطمینان وسکون سے مصافحہ کرنا چاہیے، ہاں اگر ہاتھ کھینچنے سے ایسے تأثرات کا اندیشہ نہیںہے تو ہاتھ کھینچ سکتے ہیں، اصل چیز جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ مصافحہ محبت اور دوامِ محبت کا ذریعہ ہونا چاہیے، اس کے لیے جو چیزیں مُمِدِّومُعاون ہوں اُن کو برتنا چاہیے، دو مصافحہ کرنے والے کسی نہ کسی وقت اپنا ہاتھ کھینچے گے ہی؛ اگر دونوں میں سے کوئی اپنا ہاتھ کھینچے ہی نہ تو دیگر کام کب ہوں گے؟ تو مطلب ہوا کہ سامنے والے کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ہمارے مصافحے سے خوش نہیں ہے؛ لہٰذا جلدبازی نہیں کرنی چاہیے، صبر وتحمل کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہیے، کیا عجب کہ آپ کی یہ شگفتگی کسی کے دل کے درد کا درماں بن جائے۔ تاہم اگر کوئی شخص ایسا ہو جو چمٹ جائے اور ہاتھ چھوڑنے کے لیے آمادہ ہی نہ ہو، تواُس وقت بہر حال ہاتھ کھینچنے کی گنجائش ہے۔ (۳) تیسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ انسان کی اپنی طرف سے یہی کوشش ہونی چاہیے کہ جب تک ملاقات کرنے والا رخصت نہ ہوجائے، اُس کی جانب متوجہ رہے، اُس سے باتیں کرے؛ بالخصوص اُس وقت جب کہ وہ آپ سے ہی ملنے آیا ہو، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی آپ سے ملنے آیا ہے، آپ سے اپنا درد بانٹنے آیا ہے، آپ سے کچھ سننے آیا ہے، اب اُس وقت آپ اپنا چہرہ کسی اور طرف پھیر لیں، تو بندہ مومن کا دل ٹوٹ جائے گا، اور چہرہ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اُس کے سامنے بے رخی اور بے توجہی نہ برتیں، آپ ایسے گفتگو کریں جیسے آپ اُسی کے انتظار میں تھے، آپ ایسا برتاؤ کریں جیسے آپ کو اُس سے مل کر بے پناہ خوشی ہوئی ہے، صحیح معاشرہ ایسے ہی فروغ پاتا ہے، جو اسلام کا ایک اہم مقصد ہے؛لیکن اِس سنت پر عمل کرنا ایک مجاہدہ سے کم نہیں، دل گُردہ کی بات ہے؛ البتہ اگر کہیں کوئی مجبوری ہے اور چہرہ پھیرنا ناگزیر ہے، چہرہ نہ پھیرنے سے اُس فائدہ سے بڑا کوئی نقصان ہوجائے گا تو مسئلہ الگ ہوگا، زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں یہ معاملہ کرنا پڑتاہے مثلاً: آپ کو کوئی کام ہے جس کے لیے تنہائی ضروری ہے اب اُسی و قت کوئی آ گیا اور جانے کانام ہی نہ لے یا آپ کو کہیں جاناہے ،کوئی اُسی وقت آگیا تو ایسے مواقع پر گنجائش ہے کہ اٹھ کر چلے جائیں یا اُس کو جانے کے لیے کہہ دیں اور انداز مشفقانہ ہو مثلاً: یہ کہے: آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی، میں مزید آپ سے بیٹھ کر استفادہ کرتا؛ لیکن فلاں کام در پیش ہے، اجازت ہوتو……اور بعض دفعہ ڈانٹنے اور زبردستی کی بھی نوبت آجاتی ہے، موقع ومحل کے ا عتبار سے اِس کی بھی اجازت ہے۔ (۴) جب مجلس میں کئی لوگ بیٹھے ہوں تو اپنے پَیر، ساتھی کی طرف لمبے نہ کئے جائیں، یہ بات ہم نشیں کو ناگوار ہوگی یہ بات تواضع اور خاکساری کے بھی خلاف ہے، قربان جائیے رحمۃ للعالمین کی رحمۃ اللعالمینی پر، امت کو ہر موڑ پر آدابِ انسانیت کی رہنمائی فرمائی اور رہنمائی ہی نہیں فرمائی ، اُس کو برت کر دکھایا، قول وعمل کی