اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اخلاص اور حضورکی سنت سمجھ کر سلام کرنا برکت کا سبب ہے، حضورﷺ کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوسکتی یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور ایک دوسری روایت میں گھر والوں کو سلام کرنے کو دخولِ جنت کا سبب اور اللہ کی ضمانت وحفاظت میں رہنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے، روایت پڑھیے: ۱۵- حضورﷺ نے فرمایا: تین لوگ، اللہ تعالیٰ کی ضمانت وحفاظت میں ہوتے ہیں؛ اگر وہ زندہ ہیں تو اللہ کفایت فرماتا ہے اور وفات پاگئے تو جنت میں داخل ہوں گے(ان میں سے ایک) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں سلام کرکے داخل ہوتے ہیں۔ (الأدب المفرد: ۱۰۲۸، فضل من دخل بیتہ بسلام) اس کی مزید وضاحت ابن بطالؒ نے اپنی کتاب میں کی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فإذا دخلتم بیوتا فسلموا علی أنفسکم۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمااور عطاؒ وعکرمہؒ وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی خالی گھر میں داخل ہو تو وہاں سلام کرے؛ کیوں کہ فرشتے اس کا جواب دیتے ہیں، جب خالی گھر میں بوقتِ دخول سلام کا حکم ہے تو ایسے گھر میں جہاں لوگ موجود ہیں، انہیں سلام کرنا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے، گھر والوں کو سلام کرنا رزق میں برکت کا سبب ہوتا ہے اس کی مزید تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو زید بن اسلمؓ سے مروی ہے کہ: حضورﷺ نے ارشادفر مایا: جب تم لوگ اپنے گھروں میں جاؤ تو گھر والوں کو سلام کرلیا کرو اور اللہ کا نام لے لیا کرو؛ کیوں کہ جو کوئی بوقتِ دخول، سلام کرلیتا ہے اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: لا مبیت لکم ہہنا ولا عَشاء کہ چلو بھائی یہاں سونے اور کھانے کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر داخل ہوتے ہوئے سلام نہیں کرتا اور کھاتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھتا، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: أدرکتم المبیت والعشاء چلو سونے اور کھانے کا انتظام ہوگیا۔(شرح ابن بطال: ۷؍۱۴) حدیث میں لا مبیت لکم الخ برکت سے کنایہ ہے اور أدرکتم المبیت الخ بے برکتی سے کنایہ ہے، گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کے سلسلے میں کوتاہی اور غفلت عام ہے، عموماً لوگ سلام نہیں کرتے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کا علم ہی نہیں ہے، بڑے سلام نہیں کرتے تو بچوں پر اس کا اثر پڑتا ہے وہ بھی سلام نہیں کرتے؛ اس سلسلے میں بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے، اللہ توفیق دے، اس کی مزید تفصیل آگے آئے گی۔ ۱۶- مسنون سلام باہمی تعلقات میں استحکام کی بنیاد خلیفہ ثانی حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں: کہ تین چیزیں ایسی ہیں، جن کو اختیار کرنے سے مسلمانوں کے باہمی تعلقات میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور ایک مسلمان، اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے تئیں اخلاص ومحبت کے جذبات کو فروغ دیتا ہے (۱) ملاقات کے وقت سلام کرنے میں پہل کرنا (۲) مسلمان کو اس کے نام کے ذریعہ مخاطب کرنا، جس کو وہ پسند کرتا ہے (۳) جب وہ مجلس میں آئے تو اس کو (عزت واحترام) کے ساتھ جگہ دینا۔ (شرح السنۃ: ۱۲؍ ۲۶۳)