اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بردو سلام کا مفہوم اوپر گذر چکا ہے کہ آگ کے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر برد وسلام ہونے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آگ، آگ ہی نہ رہی ہو؛ بلکہ ہوامیںتبدیل ہوگئی ہو؛ مگر ظاہر یہ ہے کہ آگ اپنی حقیقت میں آگ ہی رہی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آس پاس کے علاوہ دوسری چیزوں کو جلاتی رہی؛ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن رسیوں میں باندھ کر آگ میں ڈالا گیا تھا، اُن رسیوں کو بھی آگ ہی نے جلا کر ختم کیا؛ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بدن مبارک تک کوئی آنچ نہیں آئی (کما في بعض الروایات) تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں حاصل تھی ۔ (معارف القرآن: ۶؍۲۰۲) ۲۴- سَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔(القدر: ۵) (اور وہ شبِ قدر) سراپا سلام ہے (جیسا کہ حدیث بیہقی میں حضرت انسؓ سے مرفوعاً مروی ہے: کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس شخص کو قیام وقعود وذکر میں مشغول دیکھتے ہیں تو اس پر صلاۃ بھیجتے ہیں یعنی اس کے لیے دعاء ِرحمت کرتے ہیں، اور خازن نے ابن الجوزی سے اس روایت میں، یسلّمونبھی بڑھایا ہے، یعنی سلامتی کی دعا کرتے ہیں، اور یصلونکا حاصل بھی یہی ہے ؛کیوںکہ رحمت وسلامتی میں تلازُم ہے، اسی کو قرآن میں سلام فرمایاہے اور امرِ خیر سے مراد یہی ہے اور نیز روایات میں، اِس میںتوبہ قبول ہونا، ابواب سماء کا مفتوح ہونا اور ہر مومن پر ملائکہ کا سلام کرنا آیاہے، (کذا فی الدر المنثور)… ( اور) وہ شب قدر (اسی صفت وبرکت کے ساتھ) طلوع فجر تک رہتی ہے۔ سلامٌ،عبارت کی اصل ہي سلامٌہے، لفظ ہيحذف کردیا گیا، معنی یہ ہیں کہ یہ رات سلام اور سلامتی ہی ہے اور خیر ہی خیر ہے، اس میں شرکا نام نہیں اور بعض حضرات نے تقدیر عبارت سلام ہو قرار دے کر اس کو من کل أمر کی صفت بنایا اور معنی یہ ہوئے کہ یہ فرشتے ہر ایسا امر لے کر آتے ہیں جو خیر وسلام ہے۔ (معارف القرآن:۸؍۷۹۴) مولف عرض گزار ہے :کہ ان تمام آیات اور اُن کی تفاسیرسے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ لفظ ’’سلام‘‘ راحت اور سلامتی کے حوالے سے ایک بحربیکراں ہے، جس کی گہرائی وگیرائی اللہ کو ہی معلوم ہے؛اور اسی لیے یہ دعا اتنی اہم اور با عظمت سمجھی گئی، اس کے باوجود اگر کوئی سلام سے بے رخی برتے یا سلام کی اصلی شکل کو مسخ کر کے غیروں کی رَوِش اپنائے یا سلام کو جوں کا توں رکھے؛ مگر اس کے تقاضوں سے نابلد رہے تو یہ قابلِ افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لمحۂ فکریہ ہے، جس کی اصلاح ضروری ہے۔ قرآن میں ’’السلام‘‘ کا رسم الخط ’’السلام‘‘ کا لفظ اصل میں لام کے بعد الف کے ساتھ ہے؛ لیکن قرآن کریم میں کہیں کہیں سلٰمآیا ہوا ہے یعنی الف کو حذف کر کے لام پر کھڑا زبر کے ساتھ، اس کے بارے میں یہ شبہ نہ رہے کہ یہ غلط ہے؛ بلکہ یہ قرآن کا رسم الخط ہے، اور قرآن میں رسم