اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کہ یہ تسلیم سے نہیں ہے؛ بلکہ تسلُّم سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں سلامت رہنا اور آیت کا مطلب ہوگا کہ وہ (عباد الرحمن) ایسی بات کہتے ہیں جو باعثِ سلامتی ہوتی ہے کہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی اور انہیںکوئی گناہ نہیں ہوتا؛ الغرض یہ لوگ جاہلانہ اور بے وقوفانہ باتیں کرنے والوں سے انتقام نہیں لیتے؛ بلکہ انہیں معاف کردیتے ہیں اور یہی مفہوم علامہ قرطبیؒ نے مجاہدؒ وغیرہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: وقال مجاہد: معنی ’’سلما‘‘ سدادا أي یقول للجاہل کلاما یدفعہ بہ برفق ولین۔ (القرطبی سورۃ ا لفرقان ،آیت:۶۳) سلام متارکت کی تیسری مثال وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْہُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَکُمْ أَعْمَالُکُمْ سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ لَا نَبْتَغِیْ الْجَاہِلِیْن ۔(القصص: ۵۵) یعنی ان لوگوں کی ایک عمدہ خصلت یہ ہے کہ جب یہ کسی جاہل دشمن سے لغو بات سنتے ہیں تو اس کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سلام لو، ہم جاہل لوگوں سے الجھنا پسند نہیں کرتے، اس آیت میں سلام سے سلام متارکت مراد ہے؛ چناں چہ علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں: (سلم علیکم) أي متارکۃ مثل قولہ ’’وَإِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُونَ قَالُوا سَلَاماً‘‘(الفرقان: ۶۳) أي لنا دیننا ولکم دینکم (سلم علیکم‘‘ أي أمنا لکم منا؛ فإنا لا نحاربکم ولا نسابکم، ولیس من ا لتحیۃ في شيء(مختصر تفسیر القرطبی : ۳؍ ۳۷۳) ملحوظہ: علامہ قرطبیؒ کی رائے کے مطابق یہ سلام متارکت شروع میں تھا اور کفار کی جاہلانہ باتوں پر مسلمان سلام کہہ دیا کرتے تھے؛ اسی لیے انہوں نے اعمال کی تفسیر دین سے کی ہے کہ ہمارا اور تمہارا مذہب الگ الگ ہے؛ چناں چہ وہ آگے لکھتے ہیں: قال الزجاج: وہذا قبل الأمر بالقتال ’’لا نبتغي الجاہلین‘‘ أي لا نطلبکم للجدال والمراجعۃ والمشاتمۃ۔ (حوالہ سابق) لہٰذا مسلمان اس آیت سے مستثنی ہیں، مسلمانوں میں کوئی جاہلانہ گفتگو کرے اس کے باوجود اگر کوئی اسے السلام علیکم بطور تحیہ کے کہہ دے تو کوئی حرج نہیں۔ وقد اتفق الناس علی أن السفیہ من المؤمنین إذا جفاک، یجوز أن تقول لہ: سلام علیک۔ (القرطبی:۳؍۳۹۴)